اسلام آباد سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کا ایک بڑا نام انکی قربانیاں لائق تحیسن ہیں ۔اپ پاکستان کو ایک مستحکم مضبوط فلاحی اسلامی ریاست کے طور پر اور کشمیر کی آزادی ومستقبل کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کا خواب لیے دنیا سے گے ۔اپ نے تحریک آزادی کے لیے جیل وصعوبتیں برداشت کی لیکن بھارت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوے ۔دنیا کو کشمیر کے مسلہ کی
حساسیت کا ادراک کرنا ہوگا
78سالوں کی قربانیاں کسی صورت رائیگان نہیں جاسکتی ۔جماعت اسلامی آزادکشمیر کو ایک حقیقی تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ دیکھنا چاہتی آزادکشمیر کے حکمران اور یہاں کی بیورو کریسی حالات کا ادراک کرے اور اس ہیجانی صورت حال سے
ریاست کو نکالا جاے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے سے روکنے کے لیے ان کے مسائل کو مطالبات کو حل کرے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی حلقہ غربی باغ کےرہنما راجہ عاشق خان نے ایک بیان میں کیا ۔ان کامزید کہنا تھا کہ حکومت عوام سے وہ وعدہ کرے جو پورا کیا
جاسکے اگر اسمبلی ممبران کی۔تنخواہوں مراعات اور بیورکریسی کی شاہ خرچیوں بیرون ممالک سیر سپاٹوں کے لیے بجٹ ہے تو عام آدمی کی زندگی بدلنے کےلیے بجٹ کی کمی کیوں ہوجاتی ہے ۔حالات انتہائی سنگین ہیں بحرانی وہجانی کفیفیت ہے اور حکمران اپنی عیاشیوں اور اقتدار کو مضبوط کرنے کے چکروں میں ہیں ۔
جماعت اسلامی عوام کی فلاح بہبود تعمیر وترقی ایک اسلامی فلاحی ریاست کے لیے کوشاں رہےگی ۔تحریک آزادی کے عظیم ہیرو سید علی گیلانی نے اپنی ساری زندگی تحریک آزادی کے لیے وقف کردی آخری دم تک وہ یہی خواب اور خواہشں رکھتے تھے کہ پاکستان ایک عظیم فلاحی واسلامی ریاست بن جاے جہاں اللہ اور اس کے رسول کا نظام ہو قائم ہو ۔ہم ان کے اس خواب کی تکمیل کےلیے پرعزم جدوجہد میں مصروف ہیں ۔انہوں نے مزید کہا تحریک آزادی کشمیر کابیس کیمپ کچھ نااہل نالائق لوگوں کے ہاتھ لگ جنہوں نے اس کو اپنی عیاشیوں کا مرکز بناے رکھا ہوا ہے ۔راجہ عاشق خان نے مزید کہا کے آزاد کشمیر کی حکومت اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور ایسے نازک وقت میں جب عام آدمی ملازمین کی تنظمیں سراپا احتجاج ہیں اور یہ لوگ وقت ٹپاو
پالیسی میں عمل پیرا ہیں جب اپ بے مطالبات ماننے ہی ہیں تو رٹ کو چیلنج ہونےسےپہلے ہی مطالبات مان لیں ریاست کو مذاق بناے ہوے ہیں ایسا اب نہیں ہوسکتا ۔نوجوانوں پسے ہو ے طبقات کی محرومیوں کاازالہ نا کیا تو اس خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا