google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 بارہ بہنیں

بارہ بہنیں

0

ایک تھا بادشاہ، جس کی تھیں بارہ بیٹیاں۔ سب کی سب نہایت خوبصورت اور ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتی تھیں۔ ان کی چارپائیاں کمرے میں برابر سے لگی ہوئی تھیں۔ جب وہ سب سوجاتیں، تو بادشاہ خود آ کر دروازہ باہر سے بند کر دیتا۔ وہ چاہتا تھا کہ بیٹیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ہر صبح وہ دروازہ کھولتا۔



ایک دن جب بادشاہ صبح دروازہ کھولنے آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بارہوں لڑکیوں کے جوتے ایک قطار میں رکھے ہیں، اور سب کی ایڑیاں گھسی ہوئی ہیں، جیسے وہ رات بھر کہیں چلتی رہی ہوں۔ جوتے گرد میں اٹے تھے۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ بیٹیاں رات کو کہیں باہر جاتی ہیں، مگر کہاں؟ یہ سمجھ نہ آیا۔ بیٹیوں سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص معلوم کرے گا کہ شہزادیاں رات کو کہاں جاتی ہیں، اس کی شادی شہزادی سے کر دی جائے گی، اور راج پاٹ بھی اسے دیا جائے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تین دن کے اندر یہ راز معلوم کرے، ورنہ سزا موت ہوگی۔کئی شہزادے آئے، مگر سب ناکام رہے۔ ایک کے بعد ایک تین دن میں سوتے رہے، اور صبح وہی گھسے جوتے۔ سب کو پھانسی دے دی گئی۔

سپاہی اور بڑھیا

ایک دن ایک غریب سپاہی سڑک سے گزر رہا تھا۔ اس نے بادشاہ کا اعلان پڑھا۔ دل میں خیال آیا کہ اگر یہ راز معلوم ہو جائے تو زندگی سنور جائے۔ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بڑھیا ملی۔بڑھیا نے پوچھا:"سپاہی، کہاں جا رہے ہو؟"سپاہی نے جواب دیا:"کہیں نہیں۔ سوچ رہا ہوں شہزادیوں کے راز کا پتہ چلے تو اچھا ہو۔"بڑھیا نے کہا:"یہ مشکل کام نہیں۔ بس ہمت چاہئے۔ دیکھو، رات کو شہزادیاں تمہیں شراب دیں گی، لیکن تم وہ شراب نہ پینا۔ یہ تھیلی رکھ لو، شراب اس میں انڈیل دینا۔ پھر سونے کا بہانہ کرنا۔ یہ لو ایک لبادہ، جب اسے اوڑھو گے تو تمہیں کوئی نہیں دیکھ سکے گا، مگر تم سب کو دیکھ سکو گے۔"

سپاہی کا منصوبہ

سپاہی نے بادشاہ سے مل کر اجازت لی۔ اسے اچھے کپڑے دیے گئے اور شہزادیوں کے کمرے کے پاس جگہ دی گئی۔رات کو ایک شہزادی ہنستی ہوئی شراب کا پیالہ لے کر آئی۔ سپاہی نے چپکے سے شراب تھیلی میں ڈال دی اور چارپائی پر لیٹ کر سونے کا بہانہ کیا۔آدھی رات کو شہزادیاں جاگیں، کپڑے پہنے، بال سنوارے اور باہر نکل گئیں۔ سپاہی لبادہ اوڑھ کر چپکے سے ان کے پیچھے چل پڑا۔

راز کا انکشاف

راستے میں سب سے چھوٹی شہزادی بولی:

"مجھے ڈر لگ رہا ہے، دل خوش نہیں۔"بڑی بہن ہنس کر بولی:"بس وہم ہے۔ چلو۔"تھوڑی دور جا کر وہ ایک باغ میں پہنچیں، جہاں چاندی جیسی پتیاں تھیں۔ سپاہی نے ایک شاخ توڑی۔ آواز ہوئی۔ چھوٹی شہزادی پھر ڈری۔ مگر باقی بہنوں نے اسے تسلی دی۔پھر وہ دوسرے باغ میں پہنچیں جہاں سنہرے درخت تھے۔ وہاں ایک چبوترا تھا۔ سب نے شربت پیا۔ سپاہی نے ایک پیالہ بھی چپکے سے اٹھا لیا اور ایک شاخ بھی توڑ لی۔پھر وہ دریا پر پہنچیں، جہاں بارہ کشتیاں تیار تھیں، ہر کشتی میں ایک شہزادہ بیٹھا تھا۔ شہزادیاں کشتیوں میں بیٹھ کر دریا کے بیچ موجوں کا تماشا دیکھنے لگیں۔

انعام

صبح ہوتے ہی وہ سب واپس آئیں اور سوجائیں۔ بادشاہ آیا اور سپاہی سے پوچھا:"بتاؤ، لڑکیاں کہاں گئیں؟"سپاہی نے پورا حال بتایا اور درخت کی شاخیں اور پیالہ ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ شہزادیاں سچ مان گئیں۔بادشاہ نے خوش ہو کر انعام دیا۔ سپاہی نے بڑی شہزادی کو پسند کیا، اس سے شادی کر دی گئی۔ اور سپاہی کو سلطنت کا ولی عہد بنا دیا گیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !