کوئٹہ:
بیوٹمز یونیورسٹی کے گریڈ 18 کے لیکچرار ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستگی اور دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں سہولت کاری کا اعتراف کیا ہے۔
ڈاکٹر عثمان قاضی نے اعتراف کیا کہ وہ ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے بی ایل اے رہنما بشیر زیب اور دیگر دہشتگردوں سے رابطے میں تھے، اور ریاست مخالف کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں تنظیم میں "حرفِ حمیر" کے نام سے جانا جاتا تھا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، خفیہ اطلاع ملنے کے بعد 11 اگست کو ایک خودکش حملہ آور کو گرفتار کیا گیا جس نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے حملے کے لیے ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا۔ اس انکشاف کے بعد فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا۔
ڈاکٹر قاضی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے متعدد دہشتگردوں کو پناہ دی، ان کے لیے اسلحہ کا انتظام کیا اور خودکش بمباروں کو تیاری کے مراحل میں سہولت فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر ایسے بمبار کو پناہ دے چکے ہیں جس نے بعد ازاں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا، جس میں معصوم شہری جان سے گئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یومِ آزادی پر ایک بڑا دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کا یہی لیکچرار پاکستان اسٹڈیز پڑھاتا تھا، اور یہی شخص ریاست کے خلاف سازشوں میں ملوث نکلا۔
وزیراعلیٰ نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اور تعلیمی اداروں کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے بچائیں۔
ڈاکٹر عثمان قاضی نے اپنے بیان کے آخر میں اعتراف کیا کہ ریاست نے اسے اور اس کی اہلیہ کو نوکری دی، عزت دی، لیکن اس نے غداری کی۔ اس پر شرمندہ ہوں اور نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ریاست دشمن عناصر سے دور رہیں۔

.png)