"زائرین کے مذہبی حقوق پر حملہ ناقابل قبول ہے" – علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
personcrp Pakistan
جولائی 30, 2025
0
share
🔴 زمینی راستوں پر پابندی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
اسلام آباد – مجلس وحدت مسلمین پاکستان (ایم ڈبلیو ایم) کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے زائرین امام حسین علیہ السلام کے لیے زمینی راستے بند کرنے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے بلکہ مذہبی آزادی پر ایک کھلا حملہ ہے۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا:"پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔ زائرین کا راستہ روکنا آئین کے آرٹیکل 20 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے بغیر کسی مشاورت کے یہ فیصلہ کیا جبکہ زائرین نے پہلے ہی ویزا، ہوٹلز، اور ٹرانسپورٹ پر 50 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔
پرامن ملک گیر احتجاج کا اعلانایم ڈبلیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں پرامن دھرنے اور احتجاج ہوں گے جو اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی اور زائرین کے لیے متبادل راستے یا سہولیات فراہم نہیں کرتی۔
📌 حکومت پر سنگین الزامات
علامہ ناصر عباس نے کہا:حکومت زیارات جیسی مذہبی عبادت کو سیر سپاٹے کا درجہ دے رہی ہےبائے ائر ٹکٹس مہنگے کر دیے گئے، جبکہ زمینی راستے بند کر دیے گئےوزارت مذہبی امور کی جانب سے زائرین کی گمشدگی کے بیان پر معافی مانگی جائےاسرائیل و امریکہ جیسے طاقتیں زیارات کو روکنا چاہتی ہیں اور حکومت ان کے دباؤ میں آ کر کام کر رہی ہے
⚠ حکومت کو خبردار
پریس کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ اگر احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ایم ڈبلیو ایم نے عوام، سول سوسائٹی، وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مذہبی آزادی کے اس سنگین مسئلے پر آواز بلند کریں۔