پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک نامعلوم سا سایہ ہمیشہ سامنے آتا ہے بظاہر نظر نہ آنے والا، مگر ہر فیصلہ ساز لمحے میں موجود۔ یہ سایہ "اسٹیبلشمنٹ" کہلاتا ہے۔ کبھی وردی میں، کبھی خفیہ اداروں کی فائلوں میں، کبھی ججوں کے فیصلوں میں، اور کبھی سیاست دانوں کی جیبوں میں۔ 1947 سے 2025 تک، جمہوریت کی داستاں جب بھی رقم ہوئی، اس کے حاشیے اسٹیبلشمنٹ کے قلم سے لکھے گئے۔ابتدا میں بیوروکریسی نے قائد کی عدم موجودگی میں سیاسی قیادت کو طفل مکتب سمجھا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سیاسی میدان میں خلا پیدا ہوا، اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے طاقتور طبقات نے آستینیں چڑھا لیں۔ 1958 کا مارشل لا اسی خلاء کی عملی تعبیر تھا۔ایوب خان آئے، ترقی کا خواب دکھایا، مگر عوامی حقوق پس پشت چلے گئے۔ پھر یحییٰ آئے، ملک ٹوٹا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی، مگر اسٹیبلشمنٹ کو یہ آواز پسند نہ آئی۔ نتیجہ؟ تختہ دار۔ضیاء الحق نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اقتدار سنبھالا۔ مدارس، جہاد، اور "نظام مصطفیٰ" کے نام پر ایک ایسی نسل تیار کی گئی جس نے پاکستان کی روح کو بنیاد پرستی کی طرف دھکیل دیا۔ اس کے بعد آنے والی جمہوری حکومتیں صرف دکھاوا تھیں پیچھے ریموٹ کنٹرول وہی ہاتھ چلا رہے تھے۔پھر آیا مشرف دور۔ کمپیوٹر، روشن خیالی، اور امریکہ کا ساتھ۔ جمہوریت ایک بار پھر وردی کے نیچے دب گئی۔ اور جب مشرف گیا، تو ایک نیا کھیل شروع ہوا ہائبرڈ نظام کا۔عمران خان اس نئے تجربے کا چہرہ بنے۔ عوام نے امیدیں وابستہ کیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ وقتی تھا۔ جب اختلاف ہوا، تو وہی طاقت جو خان صاحب کو لائی تھی، انہیں واپس بھی لے گئی۔ 2024 کے انتخابات میں ووٹ کے تقدس کو ایک بار پھر پامال کیا گیا۔ PTI کو کچلا گیا، اور بظاہر جمہوریت کے پردے میں وہی پرانی انجینئرنگ دوبارہ دکھائی دی۔یہ ملک کب تک تجربہ گاہ بنا رہے گا؟ عوام کب تک تخت بدلتے دیکھتے رہیں گے، مگر راج وہی پرانا سایہ کرتا رہے گا؟ جمہوریت صرف ایک نام نہیں، ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ اگر قومیں بالغ نظر ہو جائیں تو اسٹیبلشمنٹ کی گرفت بھی کمزور پڑتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ "اسٹیبلشمنٹ کہاں کھڑی ہے؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم کب کھڑے ہوں گے؟