google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 "لاپتہ افراد کی آڑ میں ذاتی مفادات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے" – بابرخان خجک انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف ایجنڈا، دہشتگردوں کی حمایت قابل مذمت ہے

"لاپتہ افراد کی آڑ میں ذاتی مفادات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے" – بابرخان خجک انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف ایجنڈا، دہشتگردوں کی حمایت قابل مذمت ہے

0

🔴

اسلام آباد – بلوچستان کے معروف سیاسی و سماجی رہنما بابر خان خجک نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں جاری دھرنے کو محض ایک ذاتی مفادات پر مبنی تحریک قرار دیا اور کہا کہ "یہ بلوچ عوام کے حقوق کی کوئی جدوجہد نہیں، بلکہ ریاست اور امن دشمن عناصر کی پشت پناہی ہے۔"



انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے دھرنے میں موجود افراد کے تعلقات بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) اور بی ایل ایف (بلوچ لبریشن فرنٹ) جیسے دہشتگرد تنظیموں سے ہیں، اور ان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔




📍 6 ماہ میں 187 بلوچ شہید، حکومت خاموش

بابرخان خجک کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران بلوچستان میں 187 کے قریب بلوچ افراد شہید ہو چکے ہیں اور حکومت بلوچستان مکمل طور پر غفلت کا شکار ہے۔"جو لوگ اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، وہ ریاست کے خلاف تصادم چاہتے ہیں۔ ان کے اپنے غیر قانونی عدالتی نظام بلوچستان میں قائم ہیں جہاں یہ مخالفین کو قتل کر رہے ہیں۔"




⚠ خواتین کو بطور شیلڈ استعمال کیا جا رہا ہے

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو ہمیشہ عزت دی گئی ہے لیکن اسلام آباد دھرنے میں بلوچ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ریاست پر دباؤ ڈالا جا سکے۔بابر خجک نے الزام لگایا کہ بی ایل اے اپنے ہی لوگوں کو قتل کر کے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کر رہی ہے، اور اس دھوکے سے پوری دنیا کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

🛑 پنجابیوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

پریس کانفرنس کے دوران عدنان سلیم نے کہا کہ بلوچستان میں پنجابی بولنے والوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا جاتا ہے، پاک فوج کے جوانوں اور روزگار کے لیے آنے والے افراد کو شہید کیا جا رہا ہے، اور ٹرینوں تک کو اغوا کر کے عام شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔

🔍 ایمان مزاری اور مہرنگ بلوچ کی حقیقت

بابرخان خجک نے کہا کہ ایمان مزاری ریاست پاکستان کے خلاف بولنے والوں کی مستقل نمائندہ بن چکی ہیں، وہ ہر اس جگہ موجود ہوتی ہیں جہاں ریاست مخالف بیانیہ پھیلایا جا رہا ہو۔ انہوں نے کہا:"ایمان مزاری انسانی حقوق کی بات تو کرتی ہیں، لیکن خود ان پر عمل نہیں کرتیں۔ وہ بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔"انہوں نے کہا کہ مہرنگ بلوچ کے والد ایک دہشتگرد تھے، جن کی تصاویر اور پس منظر خود سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ مہرنگ اور ان کی بہنوں کو ڈاکٹر ریاست پاکستان نے بنایا ہے، مگر آج وہ اسی ریاست کے خلاف دھرنا دے رہی ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !