google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 جس دن قتل کا واقعہ ہوا انکا بیٹا گھر میں سویا ہوا تھا تاہم قاتل کے ہمراہ سوشل میڈیا پر پرانی تصویر کی بنیاد بنا کر پولیس نے انکے گھر پر ریڈ کیا اور پورے گھر کو بلڈوز کر دیا ( خلیل احمد عباسی)

جس دن قتل کا واقعہ ہوا انکا بیٹا گھر میں سویا ہوا تھا تاہم قاتل کے ہمراہ سوشل میڈیا پر پرانی تصویر کی بنیاد بنا کر پولیس نے انکے گھر پر ریڈ کیا اور پورے گھر کو بلڈوز کر دیا ( خلیل احمد عباسی)

0

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پنڈوڑیاں کے رہائشی خلیل احمد عباسی نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ منشیات فروشوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ن لیگ کے مقامی رہنماء اشتیاق عباسی کے قتل کو بنیاد بنا کرپولیس کی جانب سےانکا گھر مسمار کرنے، انکے مویشی لےجانے اور انکے بیٹے کو جھوٹے مقدمے میں شامل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتےہوئے پنڈوڑیاں کے رہائشی خلیل احمد عباسی کا مزید کہنا تھا



 کہ جس دن قتل کا واقعہ ہوا انکا بیٹا گھر میں سویا ہوا تھا تاہم قاتل کے ہمراہ سوشل میڈیا پر پرانی تصویر کی بنیاد بنا کر پولیس نے انکے گھر پر ریڈ کیا اور پورے گھر کو بلڈوز کر دیا اور گھر میں پڑا ہوا سامان اور باڑے میں موجود 33 جانور جنکی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے جن میں سے چار گاڑیوں میں چھوٹے بڑے جانور پولیس لائنز کے پاس کچی آبادی میں لے جائےگئے جبکہ چار قیمتی ترین جانور کری شہر میں واقع اردو یونیورسٹی کے پاس ایک گھر مین لے جائے گئے جو کہ اگلے دن دس بجے صبح تک وہاں موجود رہے تاہم اسکے بعد سے انکا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ کہاں ہیں، ہمیںاس بارے میں تحقیقات کرنے پراس گاڑی کے ڈرائیور نے یہ بتایا جس کی گاڑی میں یہ جانور وہاں سے لے جائے گئے، اگلے دن ایس ایس پی شعیب خان نے مجھے فون کیا کہ آپ کہاں ہیں جس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں اس وقت ترنول سے لوکل وین پر آ رہا ہوں تو انہوں نے مجھے ملنے کا کہا جس پر میں پشاور روڈ پر پیروہائی موڑ پر اتر کر انکا انتظار کرنے لگا اتنی دیر میں وہ وہاںپہنچ گئےاور انہوں نے مجھ سے واقعہ کے حوالے سے سوالات کرنا شروع کر دیئے جن کے میں نے جوابات دیئے اس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ اپنےبیٹے کو لیکر آئیں میں اپنے بیٹے کو لیکر انکے پاس گیا تو انہوں نے اس سے بھی واقعہ سے متعلق سوالات کئے جس کے میرے بیٹے نے جوابات دیئے اس پر انہوں نے میرےبیٹے سےکہا کہ آپ نے اپنا موبائل بند نہیں کرنا اور جب آپ کو بلایا جائے تو آپ نے پیش ہونا ہےاور پھرمجھے اور بیٹے کو گھر جانے کی اجازت دیدی ،جس کے بعد سے میرے بیٹے کو نہیں بلایا گیا ،تاہم جب میں نےآئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی کو اپنے جانوروں کی سپرداری کی درخواست دی تو میری کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس پر پانچ مئی کو میں نے جانوروں کی بازیابی کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی ، عدالت کے حکم پر پولیس نے رپورٹ دی کہ انکے پاس کوئی جانور نہیں ہیں، تاہم انہوں نے مجھ سے کہا کہاردو یونیورسٹی اتارے جانیوالے چار جانوروں سمیت نو جانور چھوڑ کر باقی لے جاؤ جس پر میں انکار کر دیا،آج مورخہ 23 مئی کو میرا چھوٹا بیٹا اپنے نئے بائیک پر جا رہا تھا کہ آئی نائن پولیس نے نمبر پلیٹ نہ ہونے پر اسے روکا تو اس نے انہیں بتایا کہ اس نے یہ بائیک اقساط پر

 دو ماہ قبل ہی لیا ہے اور دوکان والے نے ابھی نمبر لگوا کر نہیں دیا جس پر پولیس اسے تھانے میں لے گئی اور بائیک کو بند کر دیااور بیٹے سے شناختی کارڈ لے لیا،پھر انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کے خلاف دو ایف آئی آر درج ہیں جن میں ایل تھانہ کھنہ جبکہ دوسری تھانہ سیکرٹریٹ میں درج ہے، مجھے معلوم ہوا تو تھانہ آئی نائن پہنچا اور انہیں بتایا کہ تھانہ کھنہ والی ایف آئی آر تو ختم ہو گئی ہے اور اگلے ہی دن ہماری فریقین سے صلح ہو گئی تھی اور اس حوالے سے آرڈر دکھایا جس پر آئی نائن تھانے کی پولیس نے تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کو بلا لیا جو میرے بیٹے کو ہتھکڑی لگا کر تھانہ سیکرٹریٹ لے آئی جہاں تین گھنٹے تک اسے بند رکھا گیا، تاہم تین گھنٹے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کا بیٹا ایف آئی آر میں نامزد نہیں ہے آپ ہمیں بیان حلفی دیدیں کہ جب کبھی ضرورت پری تو آپ اسے تھانے میں پیش کرینگے جس پر مین نے انہیں کہا کہ اگر میرے بیٹے کا نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں ہے تو پھر پیشی کی کیا ضرورت جس پر


مجھے کہا گیا کہ یہ صرف ضروری کاروائی ہے آپ بیان حلفی دیدیںجس پر مین نے انہین بیان حلفی دیدیا تاہم میرے بیٹے کا شناختی کارڈ جو کہ محرر کے پاس تھا نے یہ کہہ کر کہ ایس ایچ او ساھب ائینگے تو دینگے اپنے پاس ہی رکھا رہا، بیس منٹ بعد جب ایس ایچ او تشریف لائے تو انہوں نے میرے بیٹے کو دوبارہ حوالات میں بند کر دیا  اور یہ صرف انہیں دباؤ میں لانے کیلئے کیا جا رہا ہے کہ میں ہائیکورٹ میں دائر رٹ واپس لے لوں، خلیل احمد عباسی نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ انکے بیٹے کیخلاف کوئی اور بوگس مقدمہ درج کر کے جیل بھیجوا دیاجائے گا،انہوں نے صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس اسلام آباد سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور انکے بیٹے کو رہا کرنے کے ساتھ انکے تمام جانوروں کو بازیاب کروایا جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !