عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ اقتدار میں لے کرآئی ،آفتاب احمد شیرپاؤ
personcrp Pakistan
اگست 31, 2023
0
share
اسلامآباد (ملک راشد نذیر)سابق وفاقی وزیر داخلہ پی ڈی ایم کے سینیئر نائب صدر اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمدشیر پاؤ نے کہا ہے کہ عمران خان کو 2018 میں اسٹیبلشمنٹ اقتدار میں لے کرآئی ،
آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں آئی پی پیز کے مالکان کے مفادات کو مقدم اور عوام کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے، لائن لاسز واپڈا کی مکمل ناکامی اور نااہلی ہے اس پر کمیشن بننا چاہیے، تمام ڈسکوز کا فائننشل آڈٹ ہونا چاہیے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صورتحال دن بدن خراب ہوتی چلی جا رہی ہے،
اگر ملک کوآئی ایم ایف کے کہنے پر ہی چلانا ہے تو پھر حکومت کی کیا ضرورت ہے، عدلیہ سیاسی ہو گئی ہے، سپریم کورٹ میں 54 ہزار کیسز میں زیر التوا ہیں مگرچیف جسٹس عمران خان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے بے تاب ہیں،عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی، انتخابات بروقت ہونے چاہیں، الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کرے،منتخب حکومت ہی پاکستانی عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے، سائفر کے معاملے پر ڈی کلاسیفائیڈ کا ڈرامہ رچایا گیا، مہنگائی کے خلاف حکومت عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم جھوٹا بیانیہ لے کر عوام میں نہیں جائیں گے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت دوراہے پر کھڑا ہے ،ملک میں بے یقینی کی صورتحال ہے جسکا حل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہیں، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد حلقہ بندیاں کروا کر انتخابات کروائے ، انتخابات میں تاخیر کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا ، 2018 میں فوج نے عمران خان کو آر ٹی ایس بٹھا کر جتوایا تھا، عدم اعتماد کے بعد ہم حکومت کا حصہ نہیں بنے، عمران خان اپنی ہر بات پر یو ٹرن لے لیتا ہے، منتخب حکومت ہی پاکستانی اور عوام کو مسائل سے نکال سکتی ہے سا،ئفر کے معاملے پر ڈی کلاسیفائیڈ کا ڈرامہ رچایا گیا ،مہنگائی کے خلاف عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ،ہم جھوٹا بیانیہ لے کر عوام میں نہیں جائیں گے،مہنگائی کی وجہ سے لوگ باہر سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں بجلی پیٹرول اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے اثرات غریب عوام پر پڑ رہے ہیں، شفاف انتخابات سے یہ مسائل حل ہوں گے، بجلی کے بل کے میں اضافے کی وجوہات ڈالر پیٹرول اور گیس کی مہنگائی کے ساتھ ساتھ ٹیکسز میں بے تحاشہ اضافہ ہے، لائن لاسسز کی وجہ سے تقریبا 520 بلین کا عوام بوجھ اٹھا رہے ہیں،آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے میں مالکان کا مفاد مقدم رکھا گیا جبکہ ریاست یا عوام کے مفاد کو نظر انداز کر دیا گیا، یہ لائن لاسز واپڈا کی مکمل ناکامی اور نا اہلی ہے اس پر کمیشن بننا چاہیے جو اس کی شفاف تحقیقات کرے اور ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کرے، تمام ڈسکوز کا فنانشل آڈٹ ہونا چاہیے،آئی پی پیز کا ایک بورڈ ہوتا ہے اس میں صرف ان کے اپنے ہی نمائندے شامل ہوتے ہیں عوام یا بزنس مین کا کوئی بھی نمائندہ نہیں ہے اسے صحیح سمت میں جانے کی ضرورت ہے ،ہائیڈرل سے بجلی بنانے پر تین یا چار روپے فی یونٹ کاسٹ اتی ہے جبکہ آئی پی پیز کے ساتھ ملا کر یہ 53 روپے کایونٹ ہو جاتا ہے جو کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے، عمران خان کے دور میں آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے مگر بعد میں انہیں روک دیا گیا کیونکہ ان مالکان میں سے ایک کابینہ میں بیٹھا ہوا تھا ،آئی پی پیز کو ڈالرز میں ادائیگی کی جاتی ہے، نگران حکومت نے عوام کو بڑا یقین دلایا کہ ریلیف دیں گے مگر اسکا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا کیونکہ آئی ایم کی اجازت کے بغیر وہ عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے ،اگر ائی ایم ایف کے کہنے پر ہی ملک کو جلانا ہے تو پھر حکومت کی کیا ضرورت ہے ان کا ایک نمائندہ یہاں پر بٹھا دیں، آج بھی ایک شخص بجلی کے بل کے باہر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے، اس کے بعد چینی کا بحران آنے والا ہے جو کہ 180 روپے فی کلو تک ہو گئی ہے،یہ بحران آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے اس میںوقت لگے گا ،تمام اداروں کو اپنے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے عدلیہ سیاسی ہو گئی ہے عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی مگر سپریم کورٹ کے ججز جلدی فیصلے کے لیے بے تاب ہیں آج 54 ہزار کیسز میں سے صرف عمران خان کو انصاف مل رہا ہےکیونکہ جب تک موجودہ چیف جسٹس ہے وہ چاہتا ہے لاڈے کو کسی نہ کسی طریقے سے انصاف دے تحریک انصاف والے ایک پاکستان کا نعرہ لگاتے تھے نو مئی جیسے واقعات اور دفاعی تنصیبات پر حملہ کسی ریاست کی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہے، عمران خان کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لوگ نہیں ہیں تو پھر یہ کون تھے ان کے خلاف تمام ویڈیوز ثبوت موجود ہیں، سائفر جیسے معاملات اور ملک کے حساس ڈاکومنٹ پبلک میں پھیلانا افسوسناک ہے اس کیس کو منطقی انجام پر پہنچایا جانا چاہیے، ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول انتخابات ضروری ہیں، پچھلی حلقہ بندیوں پر ہمیں اعتراض ہے ،حلقہ بندیاں ٹھیک طریقے سے کی جائیں اور نئے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن شیڈول کا اعلان کرے۔