آج نیشنل پریس کلب میں تمام دوستوں کو بلانے کا مقصد آزادی صحافت پر لگی کاری ضرب اور معاشی طور پرہمارے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ادارے سے منسلک صحافیوں، اسٹاف کے بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خدشات سے آگاہ کرنا ہے جس پر ہمیں فوری آواز اٹھانا مقصد ہے۔اے ون ٹی وی جس نے رواں سال نومبر میں ہی اپنی نشریات کے تین سال مکمل کیے اور الحمدللہ خبروں کی دنیا میں بے باق تجزیوں اور خبروں کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری میں ایک نام اور مقام بنایا
جس میں بہت سے دوستوں کی محنت شامل ہے۔ آج الحمداللہ یہ ادارہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں اپنے دفاتر کے ساتھ اپنی ساکھ بنائے ہوئے ہیں، اے ون ٹی وی کی انتظامیہ اور پالیسی ایک مسلسل بورڈ آف ڈائریکٹر زکی زیر نگرانی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی ہے اور ایک طریقہ کار وضح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اور ان شاءاللہ جلد ہم سٹیلائٹ کی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں۔اب یہاں کچھ باتیں جو انتہائی اہم ہیں وہ یہاں آپ کےساتھ شئیر کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں سچائی کو سامنےلایا جائے۔گزشتہ دنوں اے ون ٹی وی کے سی ای او محمد نواز وسطڑو کےخلاف یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے موجودہ مینیجنگ ڈائریکٹر محمد علی عامر نے ایک کرپٹ مافیا کے ساتھ ملکر منصوبہ بندی کی
اور دفتر سے گھر جاتے ہوئے جمعرات کی رات تقریباً 11:55 بجے اپنے اعلی کاروں کے ساتھ اغواء کروایا، اور بعد ازاں 18 گھنٹے نامعلوم مقام پر رکھنے کے بعد بوگس ، جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کراکر انہیں پابند سلاسل کروایا ۔میں ثاقب سلیم قریشی جو اس وقت اے ون ٹی وی کے ساتھ گزشتہ تین سال سے منسلک ہوں اور بطور سئنیر اینکر و ہیڈ آف انوسٹیگیشن اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہوں ۔ میں نے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کی کرپشن کوبے نقاب کیا اور حکومتی ایوانوں سے لیکر تحقیقاتی اداروں کے سامنے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا اور کرتا رہونگا ، اور اپنے ادارے کی پالیسی پر کام کرتے ہوئے میں نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں ہونے والی کرپشن ، سے متعلق پروگرامز کنڈک کیے، جو مسلسل میری خبروں اور پروگرام کا حصہ رہے ہیں اور بار بار ان سے انکا موقف لینے کے لیے رابطے بھی کیے تاکہ خبر کے حقائق سامنے لائے جائیں ۔دو ماہ قبل میں نے پروگرام کیے، خبر دی، 27 ستمبر کو میں نے ایک پروگرام کیا ، دوسرا پروگرام فالو اپ میں 4 اکتوبر کو کیا، درمیان میں خبریں لگائیں، اور اسکا ری ایکشن نومبر میں مسلسل دھمکیوں کی صورت میں آیا۔ ایم ڈی کو بار بار بلایا آپ آئیں موقف دیں۔میرےیہ پروگرامز اور رپورٹنگ اس وقت موجودہ ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن محمد علی عامر اور انکے اعلی کاروں کو بہت ناگوار گزرے کیوں کہ انکی شکایات سیکرٹری انڈسٹری ، اور وزیر اعظم ہاؤس تک بھی جاچکی تھی اور موصوف آپے سے باہر ہوگئے اور مجھے ادارے سے نکالنے پر بضد ہوگئے جس پر میرے ادارے کے سی ای او محمد نواز وسطڑو کو مسلسل کہا گیا ، مگر انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا اگر آپ موقف دینا چاہتے ہیں ادارے کے دروازے کھلے ہیں آئیے ، مگر میں کمپنی پالیسی میں مداخلت نہیں کرسکتا اور نہ خبر یا پروگرام روکونگا، جو شاید انکا جرم بنا گیا۔اور اس کی جرم کی پاداش میں اے ون ٹی وی کے سی ای او محمد نواز وسطڑو کو سچ بولنے اور حقائق دکھانے پر سنگین نتائج بھگتنا پڑے ۔۔ اب ہمارے سوال ہیں بتایا جائے۔۔؟؟ اب یہ اغواہ کیوں ہوا، ایم ڈی اور انکے آلاکاروں نے کیوں نواز وسطڑو کو نامعلوم مقام پر رکھا ۔؟؟کس کو ضرورت پیش آئی کے حقائق چھپائے جائیں؟ ایم ڈی محمد علی عامر کو کس کا خوف تھا جو پروگرامز،، میں نے کیے اے ون ٹی وی پر اسے بند کروانے کے لیے نواز وسطڑو صاحب پر شدید دبائو کیوں ڈالا ؟؟پولیس نے ایم ڈی کے کہنے پر کیوں اتنی عجلت میں مقدمہ درج کرکے حساس ادارے کی تضحیک کی ؟؟ پولیس نے کیوں اتنی عجلت میں خبر بنا کر بغیر انوسٹی گیشن کیے حساس ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے نواز وسطڑو کی تصاویر جاری کیں؟؟بتایا جائے آئ جی اسلام آبادنے اس پورے معاملے میں کیوں خاموشی اختیار کی جب کے بروقت ان سے رابطہ کرکے حقائق سامنے رکھے گئے؟؟معزز عدالت کے روبرو ، اور حبس بیجا میں رکھنے کے باوجود سیکرٹریٹ تھانے کی پوری نفری ، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن محمد علی عامر کی پوری مافیا ٹیم کوئ شواہد، کوئ ثبوت، کوئی چیز فراہم نہ کرسکی اور انصاف و سچ کی جیت ہوئی ، معزز عدالت نے فوری مقدمہ خارج کرتے ہوئے محمد نواز وسطڑو کو با عزت بری کرتے ہوئے سیکرٹریٹ تھانے سمیت ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن محمد علی عامر کی سرزنش کی، ایم ڈی نے جعلی مقدمہ درج کروایا اب وہ خود قانونی کارروائی کا سامنا کررہا ہے ۔
ر2






