اسلام آباد
پولیس کی عدم دلچسپی
تھانہ گولڑہ کی حدود g/13 مورخہ 29/07/2022 کو ڈاکٹر صدف نے ایک غریب ٹیکسی ڈرائیور محمد علی کو بے رحمی سے قتل کرنے کی کوشش کی جس پر تھانہ گولڑہ شریف کی پولیس نے ایف آئی آر کا اندراج کیا جس کا مقدمہ نمبر 1010/22 جس میں سیکشن 337g/279/427 کے تحت مقدمہ درج کیا شاطر ملزم نے مقدمہ سے بچنے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے مقدمہ مدعی کو ڈرانے کے لئے اس کے گھر غنڈے بھجوائے انویسٹی گیشن آفیسرپر پانچ لاکھ رشوت کا الزام لگایا پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ملزم کو ریلیف دیا گیا جس کے باعث اس نے عبوری ضمانت لے کر مختلف طریقوں سے مقدمہ مدعی کو ہراساں کرنا شروع کردیا
ٹیکسی ڈرائیور جو دو وقت کی روٹی سے مجبور تھا وہ درندہ صفت ڈاکٹر کے آگے مکمل بے بس ہو چکا تھا ڈاکٹر کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مسلسل مل رہی تھی اور پولیس اپنی کارروائی آگے نہیں بڑھا رہی تھی اتنے میں ہائی کورٹ کے سینیئر قانون دان ایڈوکیٹ فضل مولا نے غریب ٹیکسی ڈرائیور محمد علی کے کیس کو اپنی زیر نگرانی اپنا وکالت نامہ جمع کروا کر کے اس کو بھرپور طریقے سے لڑنے کا فیصلہ کیا سیشن عدالت طاہر سپرا سب سے پہلے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ فضل مولا نے مزید سیکشن ایف آئی آر میں درج کروائیں جن میں 324 اور 506 انسپیکشن کے اطلاق کے بعد شاطر اور درندہ صفت ملزم نے سیشن عدالت طائرسپرا سے اپنے وکلاء کے ذریعے مقدمہ مدعی سے معافی کی درخواست کی عدالت اور مقدمہ مدعی نے وکلا کی باہمی مشاورت کے باعث چار دن کا ٹائم دے دیا گیا ملزم ڈاکٹر صدف نے محمد علی کا جتنا نقصان کیا ہے وہ اسے ادا کرے تو اس کو اس کیس سے بری کر دیا جائے گا شاطر ملزمہ ڈاکٹر صدف نے چار دن بعد سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء عدالت میں لا کر عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دوسری عدالت کا رخ کرلیا دوسری عدالت کی طرف سے تین دن کا وقت دیا گیا تین دن بعد مورخہ 11/102022 سینئر سیشن جج فرخ فرید بلوچ ویسٹ اسلام آباد نے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ فضل مولا کے دلائل سنتے ہوئے اور ان سے اتفاق کرتے ہوئے ملزمہ کی عبوری ضمانت منسوخ کردی گئی
اور فوری آرڈر جاری کئے گئے ملزمان کو گرفتار کیا جائے کیونکہ پولیس نے پہلے بھی ملزمہ کو بڑا ریلیف فراہم کیا تھا عدالت سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد لیڈی کانسٹیبل نہ ہونے کی وجہ سے ملزم عدالت سے آرام سے فرار ہو گئی پولیس کے اس رویہ سے غریب مقدمہ مدعی محمد علی انتہائی دلبرداشتہ ہے اس کی آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشن سے اپیل ہے کہ وہ اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور دو وقت کی روٹی سے محتاج ہو چکا ہے جان بوجھ کر جس درندہ صفت ڈاکٹر نے اسے جان سے مارنے کی کوشش کی پہلے پولیس نے نارمل دفعات کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا پھر اسے گرفتار نہ کر کے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا اسلام آباد پولیس کے اس رویہ سے پولیس عوام کے اندر سے اپنا اعتماد کھو دی جا رہی ہے



