تحریر طیب گوندل :- لا ان آرڈر کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ایف سی کے جوان رات دن ڈیوٹی پر کھڑے ہیں مگر کبھی ہم نے سوچا کہ یہ ایف سی کے جوان جب دوسرے علاقوں سے اسلام آباد میں ڈیوٹی کرنے آتے ہیں تو انہیں کیا facility دی جاتی ہیں کھانے میں کیا دیا جاتا ہے سلایا کہا جاتا ہے یہ نفری جو پنجاب اور کے پی کے سے منگوائی جاتی ہے آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ انہیں کیا کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں اور انہیں کھانے اور سونے کے لئے کیا مہیا کیا جاتا ہے
جی ہاں سامعین اور پڑھنے والوں یہ کہانی ہے ایک ایف سی کے جوان کی جو دوسرے شہر سے کیپٹل میں لا ان آرڈر کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سخت محنت کرتا ہے دیوار کی طرح اپنے ٹارگٹ کے سامنے کھڑا رہتا ہے ڈنڈے پتھر اور کبھی کبھی تو چلنے والی گولیاں بھی برداشت کرتا ہے اتنی سب قربانیاں دینے کے بعد ایک ایف سی کے جوان کو کیا دیا جاتا ہے آج رات جب میں پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے سے گزرتا ہوا اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا تو ریڈ زون کو کراس کرتے وقت میری نظر ایف سی کے کچھ جوانوں پر پڑی جو ایک گندے سے نالے کے ساتھ خشک زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے میں موٹر سائیکل پر سوار تھا لگ بھگ 500 میٹر دور جا چکا تھا میں واپس ان جوانوں کے پاس چلا آیا ان سے سلام دعا ہوئی اور میں نے ان سے ان کا حال پوچھا کہنے لگے نہ کھانے کو کچھ وقت پر ملتا ہے اور نہ پینے کو کچھ رات کو ٹھنڈ ہوتی ہے ایف سی کا جوان پیدل جاتا ہے قریب کسی ہوٹل سے چائے لے آتا ہے پی لیا کرتے ہیں کہنے لگے سونے کے لئے کچھ بہتر انتظامات تو نہیں ہم نے رات دن یہی رہنا ہوتا ہے اپنے حصے کی نیند پوری کرنے کے لیے یہ پاس میں ہی زمین پر لیٹ جاتے ہیں نیند آ جاتی ہے اور اپنے حصے کی نیند پوری کر لیتے ہیں ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پر سیاستدان منسٹر کی کرسی پر آتے ہیں مخالف پارٹی پر مقدمے درج کروانے کے لیے ہیں
جیسا کہ حال ہی میں آپ موجودہ
سیاسی صورتحال دیکھ رہے ہیں عمران خان صاحب کی حکومت تھی تو وہ کہتے تھے کہ موجودہ حکومت کے تیس سالہ پرانے کارناموں کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہے موجودہ حکومت کہتی ہے کہ عمران خان سے بڑا کوئی چال باز نہیں سیاسی پارٹیوں کی اس لڑائی کو دیکھ کر لگتا یوں ہے کہ یہ سیاست میں ملک چلانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے پیسے سے ایک دوسرے سے جھگڑا کرنے آتے ہیں ایک دوسرے پر مقدمہ درج کروانے آتے ہیں ملک تباہی کے دہانے پر ہے اس ملک کا کوئی وارث بننے کو تیار نہیں عوام کو بیوقوف بنانے میں سب تیار ہے غریب کو چونا لگانے میں سب تیار ہے
پھر بڑے عہدوں پر بیٹھے حکمران اور یہ سیاست دان عوام کے کام نہ آنے کے پیسے لیتے ہیں اور کام کرنے کی تو یہ رشوت لیتے ہیں غریب مزدور ہی ذلیل نہیں ہو رہا بلکہ سرکاری محکموں کے اندر چھوٹے موٹے لیول کے لوگوں کا بھی بیڑا غرق کر دیا ہے حکومت نے ہماری سیاسی پارٹیوں میں کوئی ایک بھی اقتدار کے قابل نہیں ہے
میں اسلامی صدارتی نظام کا مطالبہ کرتا ہوں. میں بحیثیت عوامی نمائندہ آرمی چیف آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس ملک کے سیاستدان جمہوری نظام کے قابل نہیں ہے مارشل لاء ہی عوام کے لیے بہترین آپشن ہے
گمنام سپاہی
تحریر
ترتیب و تفصیل طیب گوندل




