google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 شاہ رخ جتوئی اور شاہ زیب قتل کیس کی مکمل ڈٹیل

شاہ رخ جتوئی اور شاہ زیب قتل کیس کی مکمل ڈٹیل

0

 24 

اور 25 دسمبر کی رات کو شاہ زیب اپنی بہن کے ساتھ ایک شادی سے جو کہ کنٹری کلب اپارٹمینٹ کراچی میں منعقد ہوئی-- یہ شادی اس کی بڑی بہن کی تھی اور وہ اپنی دوسری بہن کو واپس چھوڑنے اپنے گھر ڈیفینس کراچی میں آرہا تھا اور اس نے اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر گاڑی روکی اور انتظار کرنے لگا کہ اس کی بہن گھر میں داخل ہوجائے- 





اس کی بہن ابھی گھر سے باہر ہی تھی کہ اس کے ہمسایئے کا ملازم جس کا نام سراج تالپور تھا نے اس کی بہن کی طرف آواز کسی- جس پر شاہ زیب کو غصہ آیا اور اس نے سراج تالپور پر غصہ کیا- اور یوں دونوں کی یہاں منہ ماری ہوئی- اور پھر دیکھا دیکھی سراج تالپور کا بھائی سجاد تالپور ، باورچی غلام مرتضی لاشاری اور ان کا مالک شاہ رخ جتوئی بھی اس لڑائی میں شامل ہوگئے- 


شاہ زیب ان سب پر بھاری پڑگیا جس پر شاہ رخ جتوئی جو کہ شراب کے نشے میں تھا غصے میں آگیا- اس وقت وہاں کافی ساری بھیڑ اکٹھی ہوچکی تھی جو کہ معاملے کو حل کرنے کی کوشش کروارہے تھے- لیکن شاہ رخ جتوئی ایک شرابی ریئس زادہ تھا اس نے اپنے گارڈ سے گن لی اور ہوا میں 3 "ف ائر" کیئے اور کہا کہ میں شاہ رخ جتوئی سکندر جتوئی کا بیٹا ہوں تم مجھے جانتے نہیں کہ میں تمہارے ساتھ کیا کچھ کرسکتا ہوں-


شاہ زیب کا والد کا نام اورنگزیب تھا جو کہ سندھ پولیس میں ڈی ایس پی تھا- اس نے معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور شاہ زیب کی طرف سے شاہ رخ جتوئی سے معافی مانگی اور معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی- جس پر شاہ رخ جتوئی نے کہا کہ یہ معاملہ شاہ زیب کی "م وت" کے ساتھ ختم ہوگا- آج نہیں تو کسی دن میں اس کو "م ار" دوں گا- سب نے معاملہ ٹھنڈا کیا-


جس پر شاہ زیب گاڑی میں بیٹھ کر دوبارہ شائد کنٹری کلپ اپارٹمینٹ جانے لگا تھا کہ شاہ رخ جتوئی نے اپنے گارڈ سے "گ ن" اور گاڑی لی اور شاہ رخ کا پیچھا شروع کردیا اور گلی کی نکڑ پر پہنچ کر اس نے شاہ رخ کی کار کے پیچھے اس کو اپنی گاڑی سے ہٹ کیا اور اس کی گاڑی پر "ف ائر" کھول دیئے- اس سے دل نہ بھرا تو باہر نکل کر کلوز رینج سے "ف ائرنگ" شروع کردی جس سے شاہ زیب موقع پر وفات پاگیا-


اب یہاں کچھ ان چ وتیوں کو جو صبح سے دیت ، 500 گز کا بنگلہ، آسٹریلیا کا فلیٹ کی کھپ ڈال رہے ان کے لیے اس کیس کے سچے واقعات لکھنے لگا ہوں تاکہ اس کو پڑھ کر وہ عبرت حاصل کریں کہ شاہ زیب کا والد اورنگزیب جو کہ سندھ میں ڈی ایس پی تھا اس کو اس حد تک مجبور کردیا گیا کہ اس بیچارے نے صلح کرنے میں ہی عافیت جانی اور اپنی باقی فیملی کی جان بچا کر سایئڈ پر ہوگیا-- اب ان واقعات کو نوٹ کرتے جانا-


یہ واقعہ درخشاں تھانے کی حدود میں پیش آیا- ڈی ایس پی اورنگزیب نے اس واقعہ کی ایف آئی آر درخشاں تھانے میں درج کروائی جہاں اس کے ہی پیٹی بھائی ڈی ایس پی وسیم خواجہ نے ایف آئی آر پر وقت ، نیچر آف کرائم جان بوجھ کر غلط درج کی تاکہ اس کیس کو کمزور کرکے مجرموں کو ٹیکنیکل طریقے سے بچایا جاسکے- 


پولیس نے جائے وقوعہ سے جا کر ثبوت اکٹھے کرنے کی بجائے ورثا سے ثبوت دینے کے لئے ورثا کو ہی ہراساں کرتے رہے- 


پولیس نے جائے وقوعہ کے سارے ثبوت ضائع کردیے تاکہ ایف آئی آر کو کمزور کیا جاسکے کیونکہ ایف آئی آر جائے وقوعہ سے میچ نہ کرتی تو اس کا سیدھا فائدہ مجرموں کو ہونا تھا- 


پولیس انویسٹی گیشن کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیتی رہی- 


پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر پر یہ پریشر ڈالا جاتا رہا کہ وہ شاہ زیب کی پوسٹ مارٹم پر یہ لکھے کہ ڈرایئو کرتے ہوئے شاہ زیب نے بہن کی شادی پر خوشی میں شراب پی ہوئی تھی تاکہ اس کا فائدہ شاہ رخ جتوئی کو ہو-


اس اثنا میں شاہ رخ جتوئی کو راتوں رات ایک جعلی نام کے پاسپورٹ بنوا کردیا گیا اور اس جعلی پاسپورٹ پر دبئی فرار کروادیا گیا- 


یہاں پر اینٹری ہوتی ہے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جو کہ اس پر سوموٹو نوٹس لیتا ہے اور اس کیس کو دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے اس پر دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتا ہے-وہ ایف آئی اے کو حکم دیتا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے- اور یوں گرفتاری کے بعد مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں شروع ہوتا ہے-


اب یہاں کیا گیم چلائی جاتی ہے وہ ملاحظہ فرمایئں-- 


1- تفتیشی صحیح طرح تفتیش نہیں کرتا ہے-

2- پراسیکوٹر ورثا کا ساتھ دینے کی بجائے مجرموں کا زیادہ طرفدار نظر آتا تھا یہی وجہ تھی اس کیس میں 4 سے 5 دفعہ پراسیکیوٹر بدلا گیا- اور جو اچھا پراسیکوٹر ہوتا اس کا تبادلہ کردیا جاتا--


یہاں تک پوری سندھ گورنمنٹ اور سندھ گورنمنٹ کی مشینری شاہ رخ جتوئی کو بچانے میں لگی تھی اور شاہ زیب کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب خالی ہاتھ تھا پھر اس پر سندھ حکومت کی طرف سے صلح کا پریشر ڈالا جاتا تھا چنانچہ اس نے اپنی باقی فیملی کی جان کی امان چاہتے ہوئے صلح کرلی-


لیکن سپریم کورٹ نے اس صلح نامے کو ریجیکٹ کردیا اور کہا ورثا پر جتنا پریشر ہے اس کا اندازہ ہمیں ہے کیونکہ اس سے پہلے شاہ زیب کی بہن کو اس کے باپ نے ڈر کی وجہ انگلینڈ بھجوادیا تھا اس نے وہاں سے بیان دیا کہ اس کی فیملی پر صلح کے لیئے کس قدر پریشر ڈالا جارہا ہے اور کہاں کہاں سے ڈالا جارہا ہے- 


جس پر صلح کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیا اور اس صلح نامے کو ریجیکٹ کرکے اس کیس کو ایسے ہی چلاتے رہنے کا حکم دیا- اور دہشت گردی کی عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ غلام مرتضی لاشاری اور سجاد تالپور کو عمر قید کی سزا سنادی-- اب یہاں اینٹری ہوتی ہے سندھ ہایئکورٹ کی- 


سندھ ہاییئکورٹ اس دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ کیس دہشت گردی کا ہے ہی نہیں اس کو سیشن کورٹ میں چلایا جائے- جس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ سندھ ہایئکورٹ کے اس فیصلے کو کاعلدم قرار دیکر دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو بحال کردیتی ہے- 


اس دوران شاہ رخ جتوئی جیل میں وی آئی پی ماحول میں انجوائے کرتا ہے بلکہ اکثر جیل سے غائب رہتا ہے لیکن پتہ یہ چل رہا ہے کہ وہ جیل میں ہے ایک دفعہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سندھ جیل میں چھاپہ مارا جہاں شاہ رخ جتوئی کے کمرے میں شراب کی بوتلیں پکڑی جاتی ہیں لیکن اس شراب کو شہد بنادیا جاتا ہے- 


اور پھر آج ریاست پاکستان جو کہ اس کیس میں مدعی تھی اس نے سپریم کورٹ سے درخواست کرکے اسی 2013 میں دیت والی درخواست پر عمل درآمد کرواکے مجرموں کو بری کروالیا-


اب یہاں کچھ سالے صبح کے ہمیں سنارہے کہ فلاں کے باپ نے 500 گز کا بنگلہ لے لیا، فلاں نے آسٹریلیا کا فلیٹ لے لیا- فلاں نے 27 کروڑ روپے لے لیئے وغیرہ وغیرہ-- اوپر والے واقعات کو دیکھ کر بتاؤ کہ شاہ زیب کے گھر والے اب تک زندہ تھے یہی بڑی غنیمت تھی- اور تم کہہ رہے ہو کہ اخے انہوں نے صلح کرلی- 


اے کھوتی کے بچو!!!! اس ماں کے درد کو محسوس کرو جس کا بیٹا چھلنی کردیا گیا لیکن اس کو انصاف نہیں مل سکا- تو اس نے انصاف نہ ملنے کے باعث صبر شکر کرلیا- وہ باپ جو کہ ڈی ایس پی تھا اس کو اس کے ادارے کے پیٹی بھایئوں نے باندر کی نچا کر اس کے سامنے انصاف کا مذاق بنادیا- اور پھر اس کی فیملی کو مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا اس کو صلح کے لئے پریشر ڈالتے رہے اور تم کہتے ہو کہ اس نے بنگلہ لے لیا، فلیٹ لے لیا- 


یہ وہ گاڑی ہے جس میں شاہ زیب کو بے دردی سے درندگی کا نشانہ بنایا گیا--

 *رضا چوہدری* 🖌️

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !