google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 ارجنٹینا پارک میں افغان پناہ گزینوں کا قیام: دو ماہ سے خیمہ زن، حکومتی توجہ کا منتظر

ارجنٹینا پارک میں افغان پناہ گزینوں کا قیام: دو ماہ سے خیمہ زن، حکومتی توجہ کا منتظر

0


اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)  وفاقی دارالحکومت کے معروف تفریحی مقام ارجنٹینا پارک میں گزشتہ دو ماہ سے افغان پناہ گزینوں نے خیمے لگا رکھے ہیں، جو کہ نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا بن چکا ہے بلکہ شہری انتظامیہ اور حکومت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے۔تقریباً 150 سے زائد افغان خاندان، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، 2 مہینے قبل افغانستان سے نقل مکانی کر کے پاکستان آئے اور اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں واقع ارجنٹینا پارک میں عارضی کیمپ لگا کر قیام پذیر ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ انہیں افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت جان و مال کا خطرہ ہے، اور وہ کسی تیسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔پارک میں مقیم ان مہاجرین کو نہ تو بنیادی طبی سہولیات حاصل ہیں



 اور نہ ہی صاف پانی، بیت الخلاء یا خوراک کا مستقل بندوبست۔ موسم کی سختی اور غیر صحت بخش ماحول میں بچوں اور بزرگوں کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے۔ بیشتر افراد دن کا بیشتر حصہ سڑک کنارے یا دھوپ میں گزارتے ہیں، جبکہ راتیں خیموں میں ٹھنڈے فرش پر بسر کرتے ہیں۔ہم طالبان کے خوف سے افغانستان چھوڑ کر آئے ہیں۔ اقوام متحدہ سے مدد کی امید تھی، لیکن دو ماہ سے صرف انتظار ہے۔ ہمیں نہ ویزہ ملا، نہ سہارا۔اب تک نہ تو ضلعی انتظامیہ نے اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالا ہے اور نہ ہی یو این ایچ سی آر (UNHCR) جیسے اداروں نے ان افراد کی آبادکاری یا نقل مکانی کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی پیش



 کی ہے۔ البتہ، کچھ مقامی این جی اوز کی جانب سے کھانے پینے اور کپڑوں کی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ایک حساس بین الاقوامی معاملہ ہے، حکومت پالیسی کی روشنی میں ہی کوئی اقدام کر سکتی ہے۔ ہم انسانی ہمدردی کے تحت زبردستی نہیں کر سکتے، لیکن پارک کو مستقل کیمپ میں بدلنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔"دوسری طرف، پارک میں روزمرہ تفریح کے لیے آنے والے شہری بھی اس صورت حال



 سے پریشان ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ پارک کی اصل حیثیت ختم ہو چکی ہے، جبکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔پناہ گزینوں نے حکومتِ پاکستان اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں کسی محفوظ تیسرے ملک میں منتقل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وقتی طور پر کم از کم طبی سہولیات، بیت الخلاء اور صاف پانی کا بندوبست کیا جائے۔یہ معاملہ نہ صرف ایک انسانی مسئلہ ہے بلکہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری بھی، جس کے حل کے لیے بروقت اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !