جعلی شناختوں کا کھیل — فنکاروں کی آڑ میں غیرقانونی نیٹ ورک بنگلادیش کی معروف یوٹیوبر اور ماڈل شانتا پال گرفتار
personcrp Pakistan
اگست 02, 2025
0
share
بھارت کے شہر کلکتہ سے حالیہ دنوں میں بنگلادیش کی معروف یوٹیوبر اور ماڈل شانتا پال کی گرفتاری نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں جعلی دستاویزات کے وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ خوبصورتی، شہرت اور آن لائن مقبولیت کے پردے میں چھپی یہ حقیقت کہ ایک غیر ملکی فنکارہ دو سال تک جعلی شناختوں پر بھارت میں مقیم رہی، کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
پولیس کے مطابق 28 سالہ شانتا پال کے پاس دو جعلی آدھار کارڈ، ایک جعلی راشن کارڈ، پین کارڈ، اور ووٹر شناختی کارڈ موجود تھے، جو کہ مختلف پتے استعمال کر کے حاصل کیے گئے۔ یہ جعلی دستاویزات صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک خطرناک نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں جو بروکرز اور جعل سازوں کے ذریعے بھارت جیسے بڑے ملک کے سسٹم میں نقب لگاتے ہیں۔
فنکار طبقہ چونکہ شہرت کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت میں بھی آزاد ہوتا ہے، اس لیے اس کا غلط استعمال زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ شانتا پال نے نہ صرف ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھارت میں قیام جاری رکھا، بلکہ مقامی لوگوں میں گھل مل کر ایک طرح کی جعلی شہریت کا پردہ بھی اوڑھ لیا۔
یہ واقعہ صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ ایک نظامی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر ایک یوٹیوبر، جو لاکھوں لوگوں کے لیے مشہور ہے، ایسے جعلی طریقوں سے سالوں تک زیرِ زمین رہ سکتی ہے، تو عام غیر معروف افراد کے لیے یہ کام تو اور بھی آسان ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس نیٹ ورک نے کلکتہ جیسے حساس اور سرحدی شہر میں پناہ حاصل کی، جہاں بنگلادیش سے آمدورفت تاریخی طور پر زیادہ رہی ہے۔ کیا بھارتی حکام ان نیٹ ورکس سے واقف نہیں تھے؟ یا پھر کچھ آنکھیں جان بوجھ کر بند تھیں؟مزید برآں، جنوبی ایشیا میں سیاسی، معاشی اور شناختی مسائل کے سبب لوگ اکثر بہتر زندگی کی تلاش میں قانونی یا غیرقانونی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ لیکن فنکاروں، یوٹیوبرز اور دیگر سوشل میڈیا شخصیات کی جانب سے قانون توڑنے کا یہ عمل ایک غلط مثال قائم کرتا ہے۔
نتیجہ:
شانتا پال کی گرفتاری صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک مکمل سسٹم کے چہرے پر سوالیہ نشان ہے۔ بھارت ہو یا پاکستان، بنگلہ دیش ہو یا نیپال — ہمیں اپنی سرحدوں سے زیادہ اپنے دستاویزی نظام کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ کل ایک اور شانتا پال، شاید کسی اور نام سے، کسی اور فلیٹ میں چھپی ہوگی، اور ریاستی مشینری پھر بے خبر رہے گی۔