google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 گندم کا جنازہ اور کسان کا احتجاج کسان اتحاد کا 11 اگست سے گندم کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

گندم کا جنازہ اور کسان کا احتجاج کسان اتحاد کا 11 اگست سے گندم کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

0

صوبوں میں احتجاج کے بعد اسلام آباد کا رخ کریں گے، اس بار ہم گندم کی کاشت سے قبل احتجاج کریں گے، چیئرمین کسان اتحاد

کسان اتحاد کا 11 اگست سے گندم کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد / لاہور (نمائندہ خصوصی) –
کسان اتحاد اور سندھ آبادگار اتحاد نے گندم کی سرکاری قیمت کے تعین میں تاخیر، شوگر ملوں کی جانب سے کوالٹی پریمیم کی عدم ادائیگی اور حکومتی زرعی پالیسیوں کے خلاف 11 اگست سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کسان تنظیموں کے مطابق، پنجاب میں احتجاج کا آغاز 11 اگست کو قصور سے کیا جائے گا، جہاں کسان علامتی طور پر "گندم کا جنازہ" نکالیں گے۔ دوسری جانب، سندھ میں 20 اگست کو سکرنڈ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس میں بڑی تعداد میں کسانوں کی شرکت متوقع ہے

کسانوں کے بنیادی مطالبات

کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل دوسرا سال ہے کہ گندم کی سرکاری امدادی قیمت کا اعلان کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 2200 روپے تک گر چکی ہے، جب کہ اس کی پیداواری لاگت 4000 روپے فی من سے زائد ہے، جس سے کسان شدید نقصان میں جا رہے ہیں۔کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی مافیا نے اب تک کوالٹی پریمیم کی مد میں 40 ارب روپے کی رقم کسانوں کو ادا نہیں کی، حالانکہ سپریم کورٹ اس رقم کو کسانوں کا جائز حق قرار دے چکی ہے۔

عدالتِ عالیہ کا حکم اور حکومتی بے حسی

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود، حکومت سندھ کی جانب سے کسانوں کو واجب الادا رقوم کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی جا رہی ہے، جس پر کسان رہنماؤں نے توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دیگر مطالبات
احتجاجی تحریک کے دوران کسان درج ذیل مطالبات بھی سامنے لائیں گے:
تمام زرعی فیصلوں میں کسان تنظیموں کو شامل کیا جائے
پائیدار آبی منصوبہ بندی کے بغیر کوئی ڈیم نہ بنایا جائے
نیلامی کے نام پر کسانوں کی زمینوں پر قبضہ بند کیا جائےکھاد، بیج اور زرعی آلات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے

ہکسان تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔ موجودہ زرعی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ یہ مسئلہ اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

Tags

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !