google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 کبوتر اور باغ کا مالک

کبوتر اور باغ کا مالک

0

کسی خوبصورت باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ روز دانہ چگ کر لاتا، اور محبت سے اپنے ننھے بچوں کو کھلاتا۔ بچے ابھی چھوٹے تھے، ان کے پر نکل رہے تھے اور وہ اُڑنا سیکھ رہے تھے۔ایک دن کبوتر دانہ لایا تو بچے فکر مند نظر آئے۔ ایک نے کہا:"ابو! آج باغ کے مالک نے اپنے بیٹے سے کہا ہے کہ پھل توڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ کل اپنے دوستوں کو بلائے گا اور ان سے باغ کے سارے پھل توڑوائے گا!"



کبوتر نے مسکرا کر بچوں کو تسلی دی:پریشان نہ ہو بچو! اگر وہ دوستوں پر بھروسہ کر رہا ہے، تو کچھ نہیں ہوگا۔ کل بھی وہ پھل نہیں توڑ پائے گا۔"

واقعی، اگلے دن نہ باغ کا مالک آیا، نہ اس کے دوستدو دن بعد پھر بچے گھبرائے ہوئے بولے:ابو! باغ کا مالک دوبارہ آیا اور کہہ رہا تھا کہ اس بار اس کے دوست وعدہ کر چکے ہیں کہ کل ضرور آئیں گے!"کبوتر نے پھر نرمی سے کہا:کل بھی کچھ نہیں ہوگا۔ جن پر بار بار بھروسہ کیا جائے، وہ اکثر مایوس کرتے ہیں۔"اور واقعی، وہ دن بھی گزر گیا۔چند دن بعد باغ کا مالک دوبارہ آیا۔ اس بار وہ کچھ ناراض اور مایوس لگ رہا تھا۔ اس نے بیٹے سے کہا:میرے دوست ہر بار وعدہ کرتے ہیں، مگر آتے نہیں۔ اب میں خود ہی کل پھل توڑوں گا!"

جب بچوں نے یہ بات کبوتر کو بتائی تو وہ چونک گیا۔ اس نے فوراً کہا:بچو! اب ہمیں یہاں سے فوراً چلے جانا چاہیے۔ جب کوئی شخص دوسروں پر بھروسہ چھوڑ کر خود کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے، تو وہ ضرور عمل کرتا ہے۔ کل وہ ضرور آئے گا۔"

چالاک کبوتر نے اسی شام نیا آشیانہ تلاش کیا، اور اپنے بچوں کو وہاں لے گیا

اگلے دن واقعی باغ کا مالک آیا اور خود اپنے ہاتھ سے سارے پھل توی


اخلاقی سبق:

جو کام خود کر سکتے ہو، اُس میں دوسروں پر بھروسہ نہ کرو۔ دوسروں کے وعدوں پر زندگی مت ٹکاؤ — کامیاب وہی ہوتا ہے جو خود عمل کرتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !