جنگل کا ایک ہرن اپنی پھرتی، تیزی اور ہوشیاری کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسے سب "چالاک ہرن" کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ چھوٹا ضرور تھا، مگر اس کا ذہن بڑے بڑے جانوروں سے بھی زیادہ تیز چلتا تھا۔ایک دن چالاک ہرن جنگل میں گھوم رہا تھا۔ وہ مزیدار پھلوں اور کھانے کی چیزوں کی تلاش میں تھا۔ اُسے معلوم تھا کہ جنگل میں کئی خطرناک جانور گھومتے ہیں جو اُسے کھانا چاہتے ہیں، لیکن وہ ان سب سے بے خوف تھا، کیونکہ اُسے اپنی تیزی اور ہوشیاری پر مکمل بھروسا تھا۔
اچانک اُسے کسی کی زور دار دھاڑ سنائی دی۔
"گڑرررر!"
ہرن فوراً چوکس ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک چیتا درختوں کے پیچھے سے باہر نکلا۔
"چالاک ہرن، کیسے ہو؟" چیتا غرایا۔ "میں بہت بھوکا ہوں۔ اگر تم چاہو تو میرے دوپہر کے کھانے بن سکتے ہو!"
چالاک ہرن کے کان کھڑے ہوگئے، مگر وہ گھبرایا نہیں۔ اس نے فوراً اپنے اطراف کا جائزہ لیا اور ایک ترکیب اس کے ذہن میں آئی۔
اسے قریب ہی ایک بڑا کیچڑ کا ڈھیر نظر آیا۔ وہ فوراً چیتے کی طرف مڑا اور بڑی سنجیدگی سے بولا:
"اے جنگل کے شیر، معذرت کے ساتھ، میں تمہارے کھانے کا انتظام نہیں کرسکتا، کیونکہ میں خود ایک بہت اہم کام پر مامور ہوں۔"
چیتا چونک گیا، "اہم کام؟ وہ کون سا؟"
ہرن نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور چالاکی سے جواب دیا:
"یہ جو تم کیچڑ کا ڈھیر دیکھ رہے ہو، یہ معمولی چیز نہیں ہے۔ آج بادشاہِ جنگل (شیر) نے حکم دیا ہے کہ اس کے دوپہر کے کھانے کی حفاظت میں خود کروں۔ یہ کیچڑ اصل میں خاص قسم کا 'شاہی سالن' ہے۔ اسے کوئی ہاتھ نہ لگائے، ورنہ بادشاہ بہت ناراض ہوگا۔"
چیتا حیرت سے بولا، "یہ کیچڑ؟ بادشاہ کا سالن؟"
ہرن فوراً بولا، "ہاں! بادشاہ کو قدرتی ذائقے پسند ہیں، اور اس کیچڑ کو خصوصی جڑی بوٹیوں سے تیار کیا گیا ہے۔ اگر تم نے اسے ہاتھ بھی لگایا تو شیر تمہیں اپنا دشمن سمجھ بیٹھے گا!"
چیتا چند لمحے سوچتا رہا، پھر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے ہرن کو شک کی نگاہ سے دیکھا، مگر پھر گردن ہلا کر بولا، "ٹھیک ہے، میں نہیں چاہتا کہ شیر مجھ سے ناراض ہو۔ تم اپنا کام جاری رکھو۔"
چیتا وہاں سے چلا گیا، اور چالاک ہرن دل ہی دل میں مسکرایا۔
اخلاقی سبق:
دانائی، ہوشیاری اور حاضر دماغی سے بڑے سے بڑا خطرہ ٹالا جا سکتا ہے۔

.jpg)
.jpg)