پشاور – 31 جولائی 2025:
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت، پولیس اور سیکیورٹی فورسز مل کر خیبر پختونخوا خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن بحال کریں گے، جہاں سیکیورٹی چیلنجز میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور حکومت کسی کو بھی صوبے کے امن اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔"دہشت گرد رہائشی علاقوں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں تاکہ انہیں نشانہ نہ بنایا جا سکے، لیکن ہم کسی صورت انہیں شہریوں کے درمیان چھپنے نہیں دیں گے،" وزیر اعلیٰ نے واضح کیا
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت عوام، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"عوام کو حکومت اور افواج کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا تاکہ ہم ان سازشوں کو بے نقاب اور ناکام بنا سکیں،" گنڈا پور نے کہا۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ 2 اگست سے قبائلی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ جرگے شروع کیے جائیں گے، جس کے بعد ایک گرینڈ جرگہ ہوگا جہاں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی طے کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کیا جائے گا، تاہم آپریشنز ایسی حکمتِ عملی کے تحت کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔
"کسی کو اجازت کے بغیر یہاں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بے دخلی اور اس کے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہوتا ہے،" گنڈا پور نے دوٹوک الفاظ میں کہا۔

