*جوانمردی اسے کہتے ہیں*
*تحریر. شوکت علی وٹکہ
پاکستان تحریک کے لوگ ان کی تصاویر لگا کر ن لیگی ثابت کر رہے ہیں.یہ نہیں کہتے سب کہ ایک سچے پاکستانی کا اپنے وطن سے محبت کا اظہار ہے وہ اس وقت سچ بول کر امر ہو گیا ہے جب اس کی سرکاری سروس(نوکری) میں ایک ماہ کا وقت رہ چکا تھا عموما سرکاری سروس کرنے والے ریٹائرمنٹ کے پہلے چند ماہ کوئی بھی عمل ایسا نہیں کرتے جس سے ان کی سروس متاثر ہو.بطور بیورو کریٹ وہ سب سے ملتے رہتے ہیں ان کی متعدد تصاویر سیاستدانوں کے ساتھ ہوں ان کی متعدد تصاویر فوج کے لوگوں کے ساتھ ہوں گی ان کی متعدد تصاویر ویڈیو ججز کے ساتھ ہوں گی لیکن اس اس بنیاد پر ان پر الزامات لگانا درست نہ ہے.
پاکستان کی عوام عام شہری اس کو کتنا سچ مانتا ہے ان کا بیان کس حد تک درست ہے یا اس میں جھول ہے یہ وقت بتائے گا اس موقع پر بڑا سچ بول کر پاکستان سے حقیقی محبت کا اظہار کیا ہے چوہدری لیاقت علی چٹھہ کو معلوم ہے ان کے بیان کے بعد ان کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے وہ بڑے آرام سے دوسرے ملک میں جا کر بیان دے سکتے تھے لیکن نہیں ان کا ضمیر جاگ رہا تھا جنہوں نے جواں مردی سے بیان دیا اور اپنا استعفیٰ دے دیا.عام شہری ان کے بیان کو سراہ رہے ہیں کچھ نے پھول بھی کمشنر آفس راولپنڈی کے باہر رکھے ہیں.
ان کے الزامات کسی ننگ پیرے کیخلاف نہیں چیف جسٹس آف پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف ہیں ان کو معلوم ہے یہ لوگ کتنے طاقتور اور بااثر ہیں اس موقع پر ایسا بیان وہی دیتا ہے جس کو اپنے ملک سے انتہائی محبت ہو اور پھر خود کہے مجھے راولپنڈی میں پھانسی پر لٹکایا جائے ایسا کوئی بزدل نہیں کر سکتا یہ ایک بہادر انسان کا کام ہے اللہ تعالیٰ چوہدری لیاقت علی چٹھہ اور انکے خاندان کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین


