google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 این اے 43 کے 6 پولنگ اسٹیشنز پر سب کی نظریں

این اے 43 کے 6 پولنگ اسٹیشنز پر سب کی نظریں

0

 جی خان پی ٹی آئی کے داور خان کنڈی اور جمعیت علمائے اسلام کے مفتی اسد محمود کے درمیان کل ہونے والا مقابلہ دلچسپ مگر نہایت اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ ایک طرف ٹانک میں مقامی سطح پر سبھی سیاسی جماعتیوں جن میں تقریبا" 20 ہزار ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر آنے والے کرین پارٹی کے امیدوار ملک رمضان شوریٰ/9 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے بیٹنی قوم کے متفقہ امیدوار عبداللہ ننگیال بیٹنی بھی مفتی اسد





 محمود کے خلاف داور خان کنڈی کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں تو دوسری طرف اسد محمود اس مضبوط اتحاد کا اکیلے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی سیاسی چال چل چکے ہیں۔ داور خان کو اس لیے بھی مضبوط تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ نو منتخب ایم پی اے ٹانک عثمان بیٹنی بھی پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں اور صوبہ خیبرپختونخوا میں وزیر اعلیٰ بھی پی ٹی آئی سے علی آمین گنڈہ پور منتخب ہونے والے ہیں اس لیے اسکا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے مگر جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر مفتی اسد محمود کو بھی آسان نہیں لیا جا سکتا کیونکہ وہ بھی سیاست کے سلطان مولانا فضل الرحمان کے فرزند ہیں جو اپنے مد مقابل سے اتنی آسانی سے ہار نہیں مانتے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ تحصیل کلاچی کے اٹل شریف پولنگ اسٹیشنز پر مفتی اسد محمود کو زیادہ ووٹ ملنے کی امید ہے کیونکہ وہاں کے پیر بزرگ پہلے ہی ان سے الحاق کر چکے ہیں ۔ حلقہ این اے 43 کے 6 پولنگ اسٹیشنز پر کل ہونے والے الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 5 ہزار 438 ہے جن میں ضلع ٹانک کا ایک پولنگ اسٹیشن جبکہ تحصیل کلاچی کے 5 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں جو کسی بھی امیدوار کی جیت میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں مفتی اسد محمود پی ٹی آئی کے داور خان کنڈی سے 826 ووٹوں کے مارجن سے ہار گئے تھے جس پر مفتی اسد محمود نے جن 6 پولنگ اسٹیشنز پر الیکشن ملتوی ہو گئے تھے ان پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے 19 فروری کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا اب جس پر کل دوبارہ پولنگ ہوگی جس کے لیے دونوں امیدواران ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ان 6 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ مفتی اسد محمود کے لیے انتہائی چیلنجینگ ہو گا کیونکہ وہ بننے والے اتحاد پی ڈی ایم کا اکیلے مقابلہ کریں گے۔ایک تو انہیں پہلے داور خان کنڈی کی 826 ووٹوں کی لیڈ کو ختم کرنا ہو گا پھر جیت کے لیے مزید ووٹ لینے ہونگے کیونکہ ذرائع کے مطابق دوار خان کنڈی کو ان پولنگ اسٹیشنز پر بھی بھاری ووٹ ملنے کی امید ہے جس سے داور خان کنڈی مزید لیڈ لے جائیں گے کیونکہ پی ٹی آئی کا خاموش ووٹ موجود ہے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ٹرن آوٹ انتہائی کم رہنے کی امید کی جا رہی ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بہ مشکل 2 ہزار سے 25 سو تک ووٹ پول ہونے کی امید ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر داور خان کنڈی یا مفتی اسد محمود میں سے جو بھی جیتے گا تو ہارا ہوا امیدوار دوبارہ گنتی اور ریجیکٹڈ ووٹوں کے لیے درخواست دے گا کیونکہ حلقہ ٹانک پر ریجیکٹڈ ووٹوں کی تعداد بھی 5 ہزار سے زائد ہے جو کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب کل دیکھنا یہ ہے کہ ضلع ٹانک، تحصیل کلاچی، تحصیل جنڈولہ اور تحصیل پنیالہ کے لیے داور خان کنڈی اور مفتی اسد محمود میں سے اگلے 5 سال کے لیے سلطان کون بنتا ہے۔۔ تاہم دونوں امیدواروں کے لیے اپنے اپنے ووٹرز کو باہر نکالنا انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ ووٹرز کے باہر نہ نکلنے کی متعدد وجوہات ہیں۔

آپکا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !