google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 فلسطین میں لگے آگ کے شعلے اور اٹھتا دھواں ہماری دہلیزوں پر دستک دے رہاہے۔( شجاع الدین شیخ

فلسطین میں لگے آگ کے شعلے اور اٹھتا دھواں ہماری دہلیزوں پر دستک دے رہاہے۔( شجاع الدین شیخ

0

 )

حماس ارضِ مقدس کے دفاع میں  اسرائیلی فوجی قوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔(ڈاکٹر خالد قدومی)

ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضا ہے کہ لندن اور نیویارک سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کریں:( حامد میر اور دیگر کا سیمینار سے خطاب)






(تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار)

اسلام آباد: فلسطین میں اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خلاف مسلمانان عالم اٹھ کھڑے ہوں اور بھرپور طریقے سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ یہ بات  تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین میں لگے آگ کے شعلے ہمارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں اور اس آگ سے اٹھتا دھواں ہماری دہلیزوں پر دستک دے رہا ہے۔ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احسا س نہیں کیا تو پوری مسلم دنیا کےلئے اسکے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے سوال آٹھایا کہ چونتیس ممالک کی تیارکردہ فوج کہاں ہے کیا اس فوج کو صرف عرب بادشاہوں کی حفاظت کےلئے رکھا گیا ہے؟تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ مذکورہ سیمینار "حرمت مسجد اقصیٰ اور ہماری زمہ داری" کے عنوان کے تحت پندرہ سے پچیس دسمبر تک ہونے والے اس مہم کا حصہ ہے جس میں فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیل کے ہاتھوں ظلم و درندگی کے خلاف  بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنا اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ 



حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے حاضرین کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی شجاعت اور اور بلند ہمتی کی زندہ کہانیاں سناکر مسلمانانِ عالم کی غیرت ِایمانی کو للکارا۔ انہوں نے کہا کہ حماس ارضِ مقدس کے دفاع میں  اسرائیلی فوجی قوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تنظیم اسلامی کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت ایوب بیگ مرزا نے کہا کہ فلسطین میں نہتے مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ پچھلےڈھائی ماہ کے دوران بیس ہزار فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی کئے جاچکے ہیں، تقریبا چھ لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار امریکہ اور اسکے مغربی اتحادیوں کی سہولت کاری کے ساتھ ہورہا ہے۔

سینیر صحافی حامد میر نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف شعلہ بیان تقریروں اور مذمتی قراردادوں سے حل نہیں ہوگا۔ اسکے لئے میدان عمل میں کودنا پڑے گا اور اس کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرکے فلسطینیوں کے مورال کو بلند کرتے رہیں۔ انہوں نے پاکستا ن کے مسلمانوں کے غیرت ِایمانی کو للکارتے ہوئے کہا کہ لندن میں آٹھ لاکھ لوگوں کے اجتماع اورامریکہ کے شہر نیویارک میں یہودیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے بعد ہما رے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم کم از کم ایک لاکھ لوگ تو اکھٹے کرسکیں۔    

پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن عاصم نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی ایٹمی پاکستان سے ہے۔ اسی لئے پاکستان کو اس جنگ میں گھسنے سے روکنے کےلئے افغانستان کے ساتھ جان بوجھ کر لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مسلمانانِ عا لم کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ آج اصل آزمائش فلسطینیوں کی نہیں بلکہ مصر، اردن اور سعودی عرب میں بڑے بڑے محلات کے مکینوں کی ہورہی ہے جو اس پوری صورتحال پر چھپ سادھے بیٹھے ہیںں۔

مولانا شبیر احمد کشمیری نے مسلمانانِ عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان کافرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اس عظیم مقصد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ علماء  ممبر و محراب سے جہاد کریں، صحافی قلم سے کریں اور عام آدمی اگر بالفعل جہاد میں شامل نہیں ہوسکتا تو کم از کم  اسرائیل کی پشت پناہ کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اس جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !