پشاور(سید طاہر شاہ سے)جمعیت علماء اسلام کے سرگرم رہنما محمد زبیر خلیل جوکسی تعارف کے محتاج نہیں،مرکزی اور صوبائی سطح پر پارٹی کی کونسل کے ممبر بھی ہیں، اس کے علاوہ علاقے میں ایک فلاحی تنظیم کے صدر بھی ہیں،گزشتہ روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی جے یو آئی کیلئے وقف کر رکھی ہے،کیونکہ جے یو آئی ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے،انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کی ترقی اور فروغ کیلئے دن رات محنت میں لگا رہتا ہوں
،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست کے علاوہ علاقے میں دشمنیوں کے خاتمے کیلئے کوششیں کرتا رہتا ہوں تاکہ ہمارے علاقے،شہر اور صوبے میں امن و بھائی چارہ اور سکون ہو،مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اب تک کتنے جرگے کئے ہیں لیکن نودیہ پایان میں سجاد خان کے حجرے میں ہمارا مرکزی دفتر ہے جس میں تمام جرگوں کا ریکارڈ موجود ہے،ان سے سوال کیا گیا کہ آج کل دشمنیوں کی وجہ تعلیم کی کمی ہے یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ آج کل تعلیم عام ہے تو پھردشمنیاں کیوں ہو رہی ہیں ،وجہ یہ ہے کہ ملک میں بے روز گاری ہے،مہنگائی ہے،لوگوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے، انا پرستی آ گئی ہے،ایک دوسرے کا حق مارنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے دشمنیاں بڑھ رہی ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاست سرمایہ داروں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے،پہلے لیڈر عوام کا سوچتے تھے لیکن آج کل ذاتی مفاد کا سوچتے ہیں،چاہے وہ لانگ مارچ ہو یا شارٹ مارچ سب سیاسی لیڈر اپنے مفاد کیلئے کر رہے ہیں،یہ سیاستدان جب اقتدار میں آتے ہیں تو عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن اقتدار میں آ کر سب کچھ بھول جاتے ہیں،حکومت اپوزیشن کو دبانے میں جبکہ اپوزیشن حکومت گرانے کے لئے ہر حربے کے لئے تیار بیٹھی ہوتی ہے،اسی وجہ سے کوئی بھی حکومت اپنا ٹائم پورا نہیں کرسکی ہے،آرمی چیف کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف عاصم منیر ایک قابل اور تجربہ کار جرنیل ہیں ،انکی تعیناتی سے ملک میں سیاسی بحران اور جمود کی کیفیت ختم ہو گئی ہے،سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے افواہوں اور بد تہذیبی کا جو بازار گرم کیا ہوا تھا وہ ختم ہو گیا ہے،ہمیں آرمی چیف سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں ،امید ہے وہ عوام کی امنگوں پر پورا اتریں گے،بلدیاتی نظام بارے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا نظام ہے جس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوتے ہیں،چونکہ عوام ایم این اے اور ایم پی اے تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے اس لئے بلدیاتی نمائندے ہی ان کی آخری امید ہوتے ہیں ،تاہم ابھی تک بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز نہیں ملے جو ایک افسوسناک امر ہے،اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہیئں،حالیہ سپین جماعت مسئلیکے سوال کے جواب میں زبیر خلیل نے کہا کہ سپین جماعت بہت پرانی ہے یہ ہمارے بزرگوں کے دور1982میں تعمیر ہوئی تھی،اس کے نقشے پر اس وقت کے ایڈ منسٹریٹر کے دستخط بھی جود ہیں ،اس کی زمین ارباب سکندر خان خلیل جو صوبے کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کے خاندان نے وقف کی تھی،اگر اوقاف والے اسے اپنی تحویل میں لینا چاہتے ہیں تو پہلے ان لوگوں سے اجازت تو لیں جن کی زمین تھی اور انہوں نے مسجد کیلئے وقف کی تھی ان کے پاس اس کا ریکارڈ پڑا ہے،افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم مسلمان کافر لوگوں کی عبادت گاہ یا قبرستان ایک انچ بھی جگہ سے نہیں ہٹا سکتے لیکن اپنی مسجد ہٹانے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں،اگر یہ شاپنگ مال ہی بنانا چاہتے ہیں تو مسجد کے ارد گرد کافی زمینیں ہیں اس پر بنائیں ،خواہ مخوا ہ مسجد کو ہی کیوں شہید کرنا چاہتے ہیں،انتظامیہ کہتی ہے کہ مسجد خستہ حال ہو گئی ہے لیکن ہمارے سامنے تین انجینئرز آئے اور انہوں نے اسے ٹھیک ٹھاک قرار دیا،صرف فرش میں دڑاریں آئی ہیں جس کی مرمت کر دی جائے گی،دراصل انتظامیہ نے ایک نقشہ بنایا ہے جس میں بیسمنٹ میں کار پارکنگ،گرائونڈ فلور پر شاپنگ مال اور پھر اس کے اوپر مسجد تعمیر کی جائے گی،یہ سب ہم نہیں ہونے دینگے،اس مسجد کی تزئین و آرائش کیلئے میر حاجی زبیر علی نے ڈیڑھ کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے ،انتظامیہ کو مسجد کی تعمیر و مرمت کی ضرور ت بھی نہیںہے،آخر میں انہوں آئس نشے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس سلسلے میں والدین اور اداروں کا کردار اہم ہے ،تاہم اداروں کا کردار اس لیئے بھی اہم ہے کہ جب تک منشیات فروشوں کو پکڑا نہیں جائے گا،سزائیں نہیں دی جائیں گی،تو یہ ناسور پھیلتا جائے گا،منشیات بحالی سینٹر تو مریضوں کا علاج کرکے انہیں واپس بھیج دیتے ہیں لیکن جب منشیات سرعام بک رہی ہو تو اس کا کون زمہ دار ہو گا،اسے کوئی والدین،کوئی جرگہ،یا فلاحی ادارہ تو نہیں پکڑ سکتا یہ تو سیکیورٹی اداروں کا کام ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالیں اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچائیں


