تمباکو ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ خلیل احمد تمباکو صنعت نے بچوں کی صحت کے نقصان کا ازالہ کرے۔ شارق محمود خان
اسلام آباد (ملک راشد نزیر) تمباکو منصوعات کی آسان رسائی کے باعث بچے جلدی اسکا شکار ہوتے ہیں۔ صحت، تعلیم، صاف ماحول، بقا اور ترقی تمام بچوں کا یکساں حق ہے جسے یقینی بنایا جانا چاہیئے۔تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لاگو کرکے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک قدم اٹھانےکی ضرورت ہے۔تمباکو ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر ہمارے معاشرے کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کو مزید بےنقاب کرے گی۔ مقررین نے ان خیالات کا اظہار بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف چائلڈ (سپارک) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکیا
۔ تفصیلات کے مطابق سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف چائلڈ (سپارک) نے بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کاانعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگانے کی ضرورت کو اجاگر کیاگیا۔ اس سال کی تھیم "شمولیت اور مساوات" تھا جس پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم، صاف ماحول، بقا اور ترقی کا حق تمام بچوں کے لیے ہے اور اس لیے انہیں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مقررین نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے 60 ارب روپے کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے تمباکو ہیلتھ لیوی بل پر فوری عمل درآمد کی تجویز دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ٹیکنیکل ہیڈ/ڈائریکٹر، ٹوبیکو کنٹرول سیل، وفاقی وزارت صحت اور حکومت کے سابق تکنیکی فوکل پرسن براے ڈبلیو ایچ او ٹوبیکو کنٹرول فریم ورک کنونشن ڈاکٹر ضیاء الدین السلام نے اس موقع پر بچوں کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ مصنوعات ان کے لیے سستی اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک قدم اٹھانا چاہیے۔ خالدہ احمد، ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سپارک نے ذکر کیا کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ بچوں کے حقوق کو پاکستان کے عالمی وعدوں کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کا تحفظ کیا جاتا ہے جن میں بچوں کے حقوق کا عالمی کنونشن اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز سرفہرست ہیں۔ تمباکو ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کے زندگی، بقا اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔ شارق محمود خان، سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ نے بتایا کہ تمباکو کی صنعت بچوں کو تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف ہتھکنڈوں استعمال کر رہی ہے۔ اپنے بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تاکہ استعمال کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما سکیں۔ تاہم تمباکو کی صنعت سے متاثر ہو کر بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے اور اس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ تمباکو کی صنعت نے بچوں کی صحت کے خرچ پر اربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ صنعت اس نقصان کا ازالہ کرے۔ پروفیسر چوہدری محمد اکرم ڈائریکٹر پنجاب گروپ آف کالجز نے کہا کہ یہ دن ہمارے بچوں اور ان کے حقوق کے لیے وقف ہے جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا اس معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی بچوں سے کئے گئے بیشتر وعدوں میں ناکام رہا ہے۔ تمباکو ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر ذمدارا نہ رویے کو مزید بےنقاب کرے گی۔اسپارک کے پروگرام مینیجر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ تمباکو ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔ تمباکو ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا سنہری موقع ہے ۔




