تحریر: وقار فانی مغل
کراچی کی ترقی، سندھ کی سیاست اور عوامی سہولتوں کے نئے باب کا نام ’’شاہراہِ بھٹو‘‘ ہے۔ قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے تک 39 کلومیٹر طویل یہ سگنل فری شاہراہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ سندھ حکومت کے اس وژن کی علامت ہے جس کے تحت عوام کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت نے اس منصوبے کو مزید اہمیت دے دی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ بلاول بھٹو اس شاہراہ
کے پہلے باقاعدہ مسافر بنے اور انہوں نے 39 کلومیٹر سفر کے 200 روپے ٹول بھی ادا کیے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک علامتی پیغام قرار دیا جارہا ہے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔شاہراہِ بھٹو کراچی کے ان علاقوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جہاں ٹریفک، دھواں، وقت کے ضیاع اور بدانتظامی نے شہری زندگی کو متاثر کر رکھا تھا۔ کورنگی، لانڈھی، ملیر، قائدآباد، گلستانِ جوہر، سہراب گوٹھ اور سپر ہائی وے سے جڑے متعدد علاقے اس منصوبے سے براہِ راست
مستفید ہوں گے۔ کراچی بندرگاہ سے قیوم آباد کوریڈور منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے بندرگاہ سے آنے والی بھاری ٹریفک شہر کے اندر داخل ہوئے بغیر اپنی منزل تک پہنچ سکے گی۔ اس سے نہ صرف شہری ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔اس عظیم منصوبے پر اربوں روپے کی لاگت آئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی اصل قیمت ان کے دیرپا فوائد سے جانی جاتی ہے۔ ماضی میں سندھ حکومت پر اکثر یہ تنقید ہوتی رہی کہ صوبے میں انفراسٹرکچر پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، لیکن اب ہسپتالوں، صحت کارڈز، این آئی سی وی ڈی اور جدید طبی مراکز کے بعد ذرائع آمدورفت کی ترقی کی طرف بھی واضح پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی اس سوچ کی غماز ہے کہ کسی بھی بڑے شہر کی ترقی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ بہتر سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولتوں سے جڑی ہوتی ہے۔وزیراعلیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ کی سیاست کا ایک اہم پہلو ان کا نسبتاً نرم مزاج، تکنیکی طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں پر فوکس ہے۔ اگرچہ انہیں سخت سیاسی بیانات دینے والے رہنماؤں میں شمار نہیں کیا جاتا مگر ان کے دور میں کراچی میں کئی اہم منصوبے مکمل ہوئے۔ شاہراہِ بھٹو بھی ان ہی منصوبوں میں شامل ہے جو سندھ حکومت کی اپنی ایک بڑی کامیابی ہے۔ قرائن کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ عوامی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے اپنی جماعت کی ساکھ کو مضبوط بنایا جائے۔اس منصوبے کی ایک قابلِ ذکر جہت خواتین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات بھی ہیں۔ جدید ٹول پلازے، بہتر روشنی، نگرانی کے نظام،
ایمرجنسی سروسز اور محفوظ سفری ماحول خواتین ڈرائیورز اور فیملیز کے لیے نسبتاً زیادہ اطمینان بخش ثابت ہوں گے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت کو مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے وہاں ایسی جدید شاہراہیں ان کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم اور کاروباری مواقع تک رسائی بھی آسان ہوگی۔تاہم پاکستان کی سیاست
میں کوئی بھی بڑا منصوبہ تنازع سے خالی نہیں رہتا۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین اس منصوبے کو سیاسی تشہیر قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض حلقے نئی ٹول پالیسی اور اخراجات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے خلاف نئی سیاسی ’’گیم‘‘ بھی ترتیب دی جاسکتی ہے تاکہ سندھ میں اس کی گرفت کو کمزور کیا جاسکے۔ لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی یہ مؤقف اختیار کررہی ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس عملی کام دکھانے کے لیے کچھ نہیں جبکہ سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کے سامنے اپنا کارکردگی نامہ رکھ رہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی سیاست بھی اب نعروں سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ وہ نوجوان قیادت، جدید سوچ اور ترقیاتی سیاست کا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ شاہراہِ بھٹو کا افتتاح ان کے لیے صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سیاسی ’’نقارہ‘‘ بھی تھا جس کے ذریعے وہ یہ پیغام دیے گئے کہ پیپلز پارٹی اب صرف ماضی کی جماعت نہیں بلکہ مستقبل کی سیاست میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی میں انفراسٹرکچر کے منصوبے عوامی رائے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے یہ منصوبہ آئندہ سیاسی منظرنامے میں بھی اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔شاہراہِ بھٹو دراصل ایک ایسے کراچی کی جھلک پیش کرتی ہے جہاں سفر آسان ہو، تجارت تیز ہو، خواتین محفوظ ہوں اور شہری جدید سہولتوں سے آراستہ زندگی گزار سکیں۔ اگر اس منصوبے کی شفاف دیکھ بھال اور مؤثر انتظام جاری رکھا گیا تو یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ سندھ کی ترقی، سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کی ایک مضبوط علامت بن سکتی ہے
