پیکڈ دودھ پر جی ایس ٹی کو اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دس فیصدکیا جائے،پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن
personcrp Pakistan
مئی 19, 2026
0
share
50 فیصددودھ کودھارے میں لانے سےساڑھے سات ٹریلین روپے کا ٹیکس حاصل ہو سکتا ہے،عثمان ظہیر احمد
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پیکڈ دودھ پر جی ایس ٹی کو اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد کیا جائے، قیمتوں کی حد (پرائس کیپس) ختم کی جائیں، ڈیری پروسیسنگ کیلئے سبسڈائزڈ انرجی ٹیرف (بجلی و گیس نرخ) فراہم کیا جائے، نیشنل ڈیری پالیسی مرتب کی جائے اور ملک بھر میں کم از کم پاسچرائزیشن قانون نافذ کیا جائے تاکہ
غذائی بحران پر قابو پایا جا سکے، دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جائے، غذائی تحفظ بہتر ہو اور قومی ٹیکس بیس میں اضافہ ممکن بنایا جا سکےنیشنل پریس کلب نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای او پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن ڈاکٹر شہزاد امین، چیئرمین و سی ای او فوجی فوڈز عثمان ظہیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ دودھ غذائیت کی فراہمی کا سب سے سستا اور مؤثر ذریعہ ہے
جو بچوں کی نشوونما، قوت مدافعت، ماں کی صحت اور ذہنی ترقی کیلئے نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے جہاں سالانہ 72.4 ارب لٹر دودھ پیدا ہوتا ہے، مگر اس شعبے کا 95 فیصد حصہ غیر رسمی، غیر دستاویزی اور غیر منظم ہے۔ رہنماؤں کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے کم نشوونما (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں جبکہ غذائی قلت کے
باعث پاکستان کو سالانہ 7.6 ارب امریکی ڈالر، یعنی جی ڈی پی کے تقریباً 3 فیصد کے برابر نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تجارت کے قابل دودھ کے صرف 50 فیصد حصے کو رسمی معیشت میں شامل کیا جائے تو تقریباً ساڑھے سات ٹریلین روپے کا ٹیکس حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ جی ایس ٹی کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد آمدن ممکن ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ڈیری صنعت زرعی جی ڈی پی میں تقریباً 65 فیصد جبکہ قومی
جی ڈی پی میں 14.7 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور تقریباً ایک کروڑ دیہی خاندانوں سمیت پانچ کروڑ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کھلے دودھ کے برعکس پیکڈ دودھ صارفین تک پہنچنے سے پہلے مکمل پروسیسنگ، کولڈ چین مینجمنٹ اور مختلف حفاظتی و معیاری مراحل سے گزرتا ہے۔ ایسوسی ایشن رہنماؤں نے لیکویڈ اور خشک دودھ پر 18 فیصد جی ایس ٹی کو دنیا میں سب سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیشتر ممالک میں دودھ کو بنیادی غذا سمجھتے ہوئے اس پر
ٹیکس کی شرح صفر سے پانچ فیصد تک رکھی گئی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں ڈیری اصلاحات کو ترجیح دی جائے اور ڈیری سیکٹر کو قومی ترقی، عوامی صحت اور معاشی استحکام کیلئے اسٹریٹجک شعبے کے طور پر تسلیم کیا جائے