پندرہ سالہ صدام ولد داؤد راولپنڈی میں ایک نجی فاسٹ فوڈ پر کام کر رہا تھا پانچ ماہ سے لاپتہ والدہ اپنے بیٹے کی منتظر
personcrp Pakistan
مئی 02, 2025
0
share
اسلام آباد ()صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے شاملائی سے تعلق رکھنے والی بیوہ خاتون زرجان بی بی زوجہ داؤد مرحوم نے چیف جسٹس آف پاکستان،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب، وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام سے
اپنے پندرہ سالہ بیٹے صدام کی بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکا پندرہ سالہ بیٹا صدام ولد داؤد جو گزشتہ دو سال سے کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں ایک نجی فاسٹ فوڈ پر کام کر رہا تھا پانچ ماہ سے لاپتہ ہے،جسکی ایف آئی آر تھانہ نیوٹاؤن میں درج ہے تاہم پولیس اس کیس میں کوئی بھی تعاون نہیں کر رہی ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جماعت اسلامی بٹگرام کے رہنماءسابق
امیدوار قومی اسمبلی سعید احمد ملکال اور مشر پیرزئی ملکال قوم فیاض محمد جمال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےبیوہ خاتون کا مزیدکہنا تھا کہ ان کا بیٹا صدام یکم دسمبر 2024 کو راولپنڈی کے ایک نجی ہوٹل سے لاپتہ ہواجسکی گمشدگی کی ایف آئی آر بڑی مشکل سےواقعہ کے 55 دن بعد 25 جنوری 2025ء کو تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی میں درج کروائی گئی، تاہم پولیس نے اب تک مقدمے کے حوالے سے کوئی عملی کارروائی نہیں کی، زرجان بی بی نے مزیدکہا کہ وہ ہوٹل کے آس پاس بچے کی تلاش کیلئے گئی توہوٹل مالک نے دھکے دے کر اور پولیس بلاکر ان کو وہاں سے بھگادیا اور دوبارہ وہاں نہ آنے کا کہا،اس موقع پر
جماعت اسلامی بٹگرام کے رہنماء سابق امیدوار قومی اسمبلی سعید احمد ملکال اور مشر پیرزئی ملکال قوم فیاض محمد جمال خان نےمتاثرہ خاتون کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کیس کو اسپیشل کیس قرار دے کر فوری طور پر بچے کا سراغ لگاکر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں،فیاض محمد جمال خان نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے آئی جی پنجاب، وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو بارہا درخواستیں دی جا چکی ہیں، لیکن ابھی تک ہوٹل انتظامیہ کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا، پولیس نے مقدمے میں تحریر کیا ہے کہ بچہ بٹگرام روانہ ہوا، حالانکہ بچے کے کپڑے، موبائل اور دیگر سامان ہوٹل میں موجود ہے،سوال یہ ہے کہ اگر سامان ہوٹل میں ہے تو بچہ گھر کیسے جا سکتا ہے؟
اس موقع پر سعید احمد ملکال نے کہا کہ جب تک بچے کے بازیاب نہیں کرایا جاتا ہر دروازہ کھٹکھٹائیںگے، انہوں نےکہا کہ راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس مغوی کی بازیابی میں تعاون نہیں کررہی،چیف جسٹس آف پاکستان،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب، وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام سےمطالبہ ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور بچے کو بازیاب کرایا جائے۔