لوک ورثہ کے زیر اہتمام پاکستان کا سالانہ ثقافتی میلہ اسلام آباد میں سجا ہوا ہے جو 4دسمبر کو اختتام پذیر ہوگا.
اسلام آباد (ملک راشد نزیر)لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے رات گئے تک لوگ اس میلے میں آ کر لطف اندوز ہوتے ہیں کراچی سے کیلاش تک اور کوئٹہ سے کشمیر تک پھیلی ہوئی مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے عکاس گلوکاروں، فنکاروں، دستکاروں، چترکاروں، مصوروں اور ہنرمندوں نے اس ملیے کو چار چاندلگا دیئے لوک ورثہ کے زیر اہتمام پاکستان کا سالانہ ثقافتی میلہ اسلام آباد میں سجا ہوا ہے جو 4دسمبر کو اختتام پذیر ہوگا
یہاں پر موجود لوک کسی مشین سے نہیں اپنے ہاتھ کی کارگری دیکھاتے ہیں جیسے تانبے، پیتل اور چاندی کے برتوں پر چترکاری میں مہارت ہے پتھروں پر نقش ونگار،لکری پر نقش ونگار دھاگہ کیسے بناتے تھے کھڈی پر کپڑہ کیسے تیار کیا جاتا تھا اب تو مشینی دور آ گیا ہے دنوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے پاکستان کے تمام صوبوں کے الگ الگ پولین بنائے گئے ہیں جہاں پر ہر صوبے کو رپریزنٹ کرتے ہیں
جن میں بلوچستان پولین ،پنجاب پولین خیبرپختونخوا پولین،سندھ پولین،گلگلت بلتستان ،کشمیر سے لوگ لائے گئے ہیں ان کو ایسے موقع دیئے ہیں کہ وہ اپنا بزنس کرنے کے ساتھ لوگوں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام ثقافتی چیزیں بھی دیکھنے کے ساتھ لطف اندوز ہوں سکیں انٹرٹینمنٹ کے کیئے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے گلوکار موسیقی کا بھی خاص انتظام کیا گیا اور کھانے پینے کے لیئے بھی زیادہ تر لوکل فوڈ کا انتخاب بھی دیکھا جا
سکتا ہے جہاں آپ کو ہر صوبے کا ٹرڈیشنل کھانے ملتے ہیں جیسے مکئی کی روٹی ،سرسوں کا ساگ،کشمیری چائے اور بہت کچھ فاسٹ فوڈ بھی اور دیگر کھانے بھی با آسانی سے دستیاب ہیں













