اسلام آباد ( راشد نزیر )ضلع سوات میں دہشت گردی کے نام پر جعلی مقابلہ، بھتہ خوری، جبری گمشدگی اور ریاستی اداروں کی ماورائے آئین اقدامات کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا
جس میں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرہ میں اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور دیگر شہری شامل تھے.
![]() |
| اسلام آباد پریس کلب کے باہرسوات تعلق رکھنے والے لوگ احتجاج کرتے ہوئے |
مظاہرین نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ مٹھی بھر دہشت گردوں سے مذاکرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا جائے. دہشتگردی کے نام پر ہونے والے جعلی مقابلوں، بے گناہ افراد کو بلاتحقیق دہشت گرد قرار دینے اور قتل کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں. بائی پاس روڈ واقعہ میں ملوث سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے. سوات پولیس اور دیگر سول اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر مستحکم کیا جائے. اگر فوج یا رینجرز کی ضرورت ہو تو انہیں مقامی پولیس کی سرکردگی میں کارروائی کا پابند کیا جائے. سوات پولیس اور انتظامیہ کو بہترین افسروں اور اضافی بجٹ کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلایی ہوئی دیوار بنایا جائے.
مظاہرین نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے نام پر مزید کرفیو، چیک پوسٹوں اور مار دھاڑ کے لئے ہر گز تیار نہیں نہ ہی کسی صورت اپنا گھر بار چھوڑیں گے. انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے سیاسی اختلافات سے جان چھڑا کر سوات میں سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے اقدامات کریں. وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزر
ا سوات کے دورے کرکے عوامی مسائل کی طرف توجہ دیں. انصاف کے بغیر امن نہیں آ سکتا. ریاستی اداروں کو سیاسی قیادت کی رہنمائی میں عوام کے اصل مسائل کی طرف توجہ دیں تو مٹھی بھر دہشت گرد، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، اپنی موت آپ مر جائیں گے.






